جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

شریف فیملی کے خلاف تحقیقات کا سرکاری ریکار ڈغائب،ایف آئی اے کے خط میں حیرت انگیزانکشافات

datetime 3  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) میڈیا میں بار بار شریف فیملی کے خلاف سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے رحمان ملک کی جس انکوائری کا ذکر کیا جاتا ہے اس کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کا تو سرکاری سطح پر کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ نے 2 نومبر 1999 کو مشرف دور میں حدیبیہ پیپر ملز کے حوالے سے سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے رحمان ملک

کی انکوائری کی نوعیت دریافت کی تھی جس کے جواب میں ایف آئی اے نے اپنا موقف 28 جنوری 2000 کو بذریعہ خط وزارت داخلہ کو پیش کیا تھا۔ ایف آئی اے کی جانب سے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں رحمان ملک کی 1996۔97 میں کی جانے والی انکوائری کو ذاتی نوعیت کی تحقیقات قرار دیا گیا تھا۔ خط کے متن میں کہا گیا کہ رحمان ملک نے ایف آئی اے کے طریقہ کار کے مطابق انکوائری نہیں کی۔ خط میں رحمان ملک کی انکوائری کو اس لیے ذاتی نوعیت کی قرار دیا گیا تھا کیونکہ رحمان ملک نے نواز شریف اور ان کے خاندان بارے باقاعدہ رجسٹرڈ انکوائری نہیں کی تھی، نہ تو اس کا کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا اور نہ ہی اس کا سرکاری سطح پر کوئی ریکارڈ موجود ہے بلکہ یہ اس وقت سیاسی مقاصد کے لئے شروع کی گئی۔ اسی وجہ سے مشرف دور میں اس پر کوئی کاروائی نہ ہو سکی۔ایف آئی اے کے ڈائریکٹر محمود سلیم محمود نے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا ۔پانامہ کیس میں عمران خان کے وکیل نے انکوائری میں منی لانڈرنگ ثابت ہونے کا حوالہ دیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…