پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

زمانہ

datetime 3  جون‬‮  2017 |

ایک بڑے سٹور کے مالک نے صبح سویرے آکر اپنا سٹور کھولا اور ریک پر پڑی اشیاء کو ٹھیک سے ترتیب دینے لگا کہ ایک بچہ اندر آتے دیکھا۔ بچے نے ایک سوڈا کینز کا چارٹن گھسیٹا اور اس کو فون کے پاس لے گیا۔ پھر اس کے اوپر چڑھ کر فون کے بٹن دبا کر کوئی نمبر ملانے لگ گیا۔ اس نے نمبر ملا کر ایک منٹ انتظار کیا اور پھر جیسے ہی دوسری طرف سے کسی نے فون اٹھالیا تو بولنے لگا :

ہیلو میڈم۔ آپ کیسی ہیں؟ میں آپ کو ایک آفر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پلیز میں جاب تلاش کر رہا ہوں، آپ مجھے اپنا لان مینٹین کرنے کے لیے رکھ لیں، میں آپ کے باغیچے کی بڑے اچھے سے دیکھ بھال کروں گا۔آگے سے عورت بولی : جی نہیں بہت شکریہ میرا لان پہلے ہی ابھی والا مالی بہت اچھا مینٹین کر رہا ہے۔ لڑکا بولا: میڈم میں آپ کا لان پورے شہر میں سب سے بہتریں بنا دوں گا اور پیسے بھی اس سے آدھے لوں گا جس سے آپ ابھی کام لے رہی ہیں۔ عورت بولی: نہیں جی میں اپنی ابھی والے مالی سے بہت مطمئن ہوں۔ لڑکا پھر بولا: میڈم میں آپ کے پورچ کی مفت صفائی کر دوں گا اور ساری کیاریاں بھی ایک بار مفت ہموار کروں گا، آپ چانس تو دے کر دیکھیں۔ آگے سے پھر نفی میں جواب ملا تو لڑکے نے مسکراتے ہوئے ریسیور نیچے رکھ دیا۔سٹور کا مالک ٹکٹکی باندھے اسی لڑکے کو دیکھ رہا تھا، فون بند کرتے ہی لڑکے کے پاس پہنچ گیا اور بولا : مجھے تمہاری مثبت سوچ اور کام کرنے کا جذبہ بہت پسند آیا ہے، بتاؤ میرے لیے کام کرو گے، ادھر سٹور میں؟۔۔۔لڑکا ہنسنے لگ گیا اور بولا نہیں سر، یہ لیں فون کال کا بل۔۔جن کو میں نے فون کیا تھا وہ میڈم نہیں جانتی کہ اہ میں تھا، مین ہی ان کا مالی ہوں لیکن ہر دو ہفتے بعد ان کو اسی طرح فون کر کے چیک کرتا ہوں کہ وہ میرے کام سے مطمئن ہیں کہ نہیں۔ سٹور کا ملک حیران رہ گیا کہ کوئی اتنا عقلمند اور ایماندار بھی ہو سکتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ زمانہ خراب ہے کی رٹ لگانا بہت آسان کام ہے، سب ہی کر رہے ہیں لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ زمانہ کس پر مشتمل ہے، ہم پر، ہم انسانوں پر۔ تو پھر شکایت کی کیا تک بنتی ہے اپنا فرض تو ٹھیک سے ادا کر لیں اگر باقی معاشرہ نہیں بدل سکتے،ہر کوئی صرف اپنے آپ سے مقابلہ کرنے لگے اور اس مقابلے کو بذات خود اپنے لیے اور مشکل بناتا رہے، تو ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ہم ایک ترقی یافتہ قوم بنیں اور چین اور امریکہ کی طرح اپنا بھی کامیابی کا سکہ منوائیں اور باقی کم ترقی یافتہ اقوام کے لیے سہارہ بن سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…