جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

مغربی لباس پہن کر پریانکا چوپڑا کو مودی سے ملنا مہنگا پڑ گیا ، انتہائی اقدام اٹھا لیا گیا ۔۔ پریانکا نے کیسا لباس پہنا تھا ؟ تصویر لنک میں 

datetime 1  جون‬‮  2017 |

برلن (این این آئی)جرمنی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران مغربی لباس پہننے پر بولی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔سوشل میڈیا کے صارفین نے نریندر مودی سے ملاقات کے دوران پریانکا کی جانب سے پہنے جانے والے لباس کو ’’بے ادبی‘‘ قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پریانکا چوپڑا نے برلن میں نریندر مودی سے ہونے والی ملاقات کے لیے ایسے لباس کا انتخاب کیا جس میں ان کی ٹانگیں برہنہ نظر آرہی تھیں۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پریانکا چوپڑا نے نریندر مودی کے ساتھ لی گئی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔تصویر سوشل میڈیا پر آتے ہی لوگوں نے اس پر تنقید شروع کردی، بعض صارفین نے کہا کہ پریانکا کی جانب سے لباس کا انتخاب مناسب نہیں کیوں کہ وہ ملک کے وزیراعظم سے ملنے جارہی تھیں جبکہ بعض صارفین نے پریانکا کے حق میں بھی بات کی۔تاہم لوگوں کی تنقید کا جواب پریانکا چوپڑا نے ایک اور تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے دیا جس میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھی ہیں اور ان دونوں کی ہی برہنہ ٹانگیں نظر آرہی ہیں۔پریانکا چوپڑا ان دونوں اپنی نئی ہولی ووڈ فلم’’بے واچ‘کی تشہیر کے سلسلے میں برلن میں موجود ہیں جس میں وہ ولن کا کردار ادا کررہی ہیں۔خیال رہے کہ 2014 میں بولی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کو بھی اسی طرح کے تنازع کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ٹوئیٹر پر شیئر ہونے والے ان کی نیم عریاں تصویر پر ایک اخبار نے تنقید کی تھی۔

اس وقت دپیکا پڈوکون نے کہا تھا کہ میں عورت ہوں اور یہ میرا جسم ہے، آپ کو اس میں کوئی مسئلہ ہے؟خیال رہے کہ پریانکا چوپڑا اور دپیکا پڈوکون اس وقت بولی ووڈ میں صف اول کی اداکارائیں ہیں جبکہ یہ دونوں ہی ہولی ووڈ فلموں میں بھی کام کرچکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…