جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

شوگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری، شوگر کا علاج ممکن ہو گیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھنڈی جس کے فوائد کی ایک لمبی فہرست ہے مگر روزمرہ غذا میں شامل یہ سبزی صحت کے معاملے میں کتنی اہمیت رکھتی ہے اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا پھر لوگ اس کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں، اس کا سب سے بڑا فائدہ شوگر کو کنٹرول میں رکھنا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ بھنڈیوں کو ساری رات پانی کے ایک کپ میں بھگو کر پڑا رہنے دیں، صبح ناشتہ کرنے کے ایک گھنٹہ

بعد بھنڈیاں کپ سے نکال دیں اور پانی پی لیں، اس کے ایک گھنٹے بعد اپنی شوگر چیک کریں، جن کی شوگر 300 سے اوپر رہتی ہے وہ بھنڈیوں کے پانی کو تین دن پئیں تو شوگر 150 سے بھی کم ہو جائے گی، اللہ تعالیٰ نے بھنڈی کے پانی میں انسولین کے معجزاتی خواص رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی میں حل پذیر ریشوں (فائبرز) کی وجہ سے بھنڈی میں یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ یہ خون میں شکر کی مقدار قابو میں رکھ سکتی ہے۔ بھنڈی کھانے سے خون میں شکر کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور یہی بات شوگر پر بہتر کنٹرول میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ یعنی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھنڈی بہت مفید ہے۔شوگر کے مریضوں کو گردوں کے مرض لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ شوگر میں پرہیزی غذا استعمال کرنے والے مریض اگر روزانہ کی بنیاد پر بھنڈی کا استعمال بھی شروع کردیں تو اس سے ان کے گردے بہتر رہ سکتے ہیں اور بڑی حد تک گردوں کی بیماریوں سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ عام سبزی ہونے کے باوجود بھنڈی میں وٹامن، معدنیات اور دوسرے غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو شوگرکے علاوہ گردوں کی بیماری تک میں مفید ہوتے ہیں۔ اس کے کھانے سے دمے کا خطرہ کم ہوتا ہے جب کہ یہ دمے کی شدت میں بھی کمی لاتی ہے اس سے نہ صرف بڑوں کو بلکہ جن بچوں کو دمے اور کھانسی کی شکایت ہوتی ہے

انہیں بھی روزانہ بھنڈی کے استعمال سے افاقہ ہوتا ہے۔ بھنڈی نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول میں بھی کمی لاتی ہے کیوں کہ یہ صحت مند فائبر (ریشے) سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ ریشہ ہمارے پیٹ میں موجود پانی میں حل ہوکر مضر کولیسٹرول کو جسم میں جمع ہونے ہی نہیں دیتا۔ بھنڈی میں وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹ کہلانے والے مادّے بھی شامل ہوتے ہیں جو بیماریوں کے خلاف لڑنے والے ہمارے جسم کے قدرتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اس کے علاوہ وٹامن سی کی بدولت خون کے سفید خلیات بنانے میں بھی مدد ملتی ہے جو بیماریوں کے خلاف ’’دفاعی نظام کے محافظ‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…