پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مانعین زکوٰۃ کے ساتھ قتال کا فیصلہ

datetime 25  مئی‬‮  2017 |

حضور نبی کریمﷺ کی وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح اطراف عالم میں پھیل گئی حتیٰ کہ مدینہ کے منافقین نے اس خبر کو بڑی دلچسپی سے سنا اور ان کے اصل روپ سامنے آگئے اور حقیقت سے پردہ اٹھنے لگا اور دہشت انگیز افواہیں اڑنے لگیں اور منافقین جمع ہونے لگے، ارتداد کی آگ بھڑک اٹھی ہر طرف سرکشوں اور باغیوں نے فتنہ و فساد برپا کر دیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہاجرین و انصار کو جمع کیا اور ان سے مشورہ لیا اور فرمایا۔

’’عرب کے لوگوں نے (زکوٰۃ میں) اپنے اونٹ اور بکریاں دینے سے انکار کر دیا ہے اور کہتے ہیں کہ وہ آدمی (حضورﷺ) جس کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی تھی وہ وفات پا گیا ہے اب تم مجھے مشورہ دو، میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان سے نماز قبول کی جائے اور زکوٰۃ ان کے لئے چھوڑ دی جائے کیونکہ وہ زمانہ جاہلیت کے قریب ہیں (یعنی نومسلم ہیں)۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی طرف دیکھا تو محسوس ہوا کہ یہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات پر مطمئن ہیں تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی جگہ سے اٹھے اور منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد بآواز بلند اپنے جذبہ ایمانی کا اظہار کرتے ہوئے اورنحیف الجسم ہونے کے باوجود حملہ آور شیر کی طرح گرج دار آواز میں فرمایا خدا کی قسم! میں اس وقت تک ایک حکم الٰہی پر قتال کرتا رہوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرمائیں اور ہم ھمیں سے قتال کرنے والا قتال کرتے ہوئے شہید ہو جائے اور جنت کا مستحق ہو جائے اور ہم میں سے زندہ بچنے والا خلیفہ ہو کر زمین کا مالک بنے۔ خدا کی قسم! اگر یہ لوگ ایک رسی بھی جو وہ رسول اللہﷺ کو دیا کرتے تھے، نہ دیں گے تو میں اس پر ان سے ضرور قتال کروں گا، اگرچہ ان کے ساتھ شجر وحجر اور سارے جن و انس مل کر لڑیں! (یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اللہ اکبر، اللہ اکبر پھر فرمایا! خدا کی قسم! میں جان گیا کہ یہ بات حق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…