پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدررکھا ہے

datetime 24  مئی‬‮  2017 |

ایک یہودی شخص ’’مرحب‘‘ اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوا، وہ بڑا مغرور و متکبر سردار تھا اور بڑے جوش و خروش سے یہ رجز پڑھتے ہوئے نکلا: ’’خیبر مجھ کو جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار بند ہوں، بہادر ہوں، تجربہ کار ہوں، جبکہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے۔‘‘ عامر بن سنانؓ اس رجز کا جواب دیتے ہوئے نمودار ہوئے اور یہ کہا:

’’خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، ہتھیار بند ہوں، بہادر ہوں اور جان کی بازی لگانے والا ہوں۔‘‘دونوں باہم صف آراء ہوئے، تلواریں چلیں، مرحب یہودی کی تلوار حضرت عامرؓ کی ڈھال میں گھس گئی، حضرت عامرؓ نے نیچے سے وار کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی تلوار لگی اور شہید ہو گئے۔ لوگ کہنے لگے: عامرؓ کے اعمال ضائع ہو گئے اس نے اپنی جان کو خود ہی قتل کر دیا۔ حضرت سلمۃ بن الاکوعؓ دوڑتے ہوئے آئے اورحضور اقدسؐ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آنحضرتؐ نے پوچھا: اے سلمۃؓ! تجھے کیا ہوا؟ سلمہؓ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ عامرؓ نے اپنے اعمال ضائع کردئیے۔ (یہ سن کر) حضور اکرمؐ کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپؐ نے غضبناک ہو کر فرمایا: ’’اے سلمہؓ! یہ بات کس نے کہی ہے۔ سلمہؓ نے عرض کیا آپؐ کے چند صحابہؓ ایسا کہہ رہے ہیں۔ نبی پاکؐ نے فرمایا: ’’وہ جھوٹ کہتے ہیں، بلکہ عامرؓ کیلیے دوہرا اجر ہے۔‘‘ اس کے بعد نبی کریمؐ نے حضرت علیؓ کو علَم مرحمت فرمایا، چنانچہ حضرت علیؓ اس مرحب یہودی کے مقابلے میں آئے جو یہ کہہ رہا تھا: ’’خیبر مجھ کو جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار سے لیس ہوں، بہادر ہوں، تجربہ کارہوں، جب کہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے۔‘‘ حضرت علیؓ اس کے متکبرانہ رجز کا جواب دیتے ہوئے آگے بڑھے اور یہ کہا:’’میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدررکھا ہے،

جھاڑی کے شیر کی طرح مہیب اور خوفناک، میں دشمنوں کو نہایت سرعت سے قتل کر دیا کرتا ہوں۔‘‘پھر اس کے قریب پہنچے اور مرحب پر ایسا حملہ کیا جیسے شیر اپنے شکار پر حملہ کرتا ہے۔ حضرت علیؓ نے اپنی تلوار آسمان کی طرف اٹھائی اور مرحب کے سر پرتلوار کا وار کرکے اس کے جسم کے دو ٹکڑے کردئیے۔ مرحب بیل کی طرح خون میں لت پت ہو کر گر پڑا اور سسک سسک کرمر گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…