منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہم جنس پرستی کے بعد یورپ میں ایک اور شرمناک رجحان پروان چڑھنے لگا،کس قسم کی شادیاں ہورہی ہیں؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)مغرب میں جیون ساتھی کےلئے پہلے ہم جنس پرستی کارجحان پیداہوااوراس کے حق میں امریکہ ،برطانیہ اور کئی بڑے بڑے یورپی ممالک ممالک میں مظاہرے بھی کئے گئے اورہم جنسی پرستوں کوشادی کی اجازت بھی دے دی گئی ،اب امریکہ اوریورپی ممالک میں ایک شادی کرنے کاایک نیارجحان پیداہوگیاہے کہ لوگوں نے اب ہم جنس پرستی کے بجائے اپنے ہی ساتھ شادیاں کرناشروع کردی ہیں ۔

اس کی بڑی وجہ ان ممالک کے شہریوں کااپنے جیون ساتھی پرعدم اعتماد کااظہارہے اوراپنے ہی ساتھ شادی کرنے کاطریقہ عام ہورہاہے جبکہ اس طریقے کو’’سولوگیمی ‘‘کانام دیاگیاہے ۔ امریکی ریاست نیویارک کی رہائشی ایریکا انڈریسن نے اپنے ساتھ ہی شادی رچالی ۔اس کاکہناہے کہ میں کسی جیون ساتھی کی قائل نہیں بلکہ میں ایسی زندگی چاہتی ہوں جومیں انجوائے کرسکوں کیونکہ اس طرح شادی کرنے سے میں کسی بھی پابندبھی نہیں رہوں گی اورنہ کوئی مجھے دکھ دے سکے گا۔ ایریکا انڈریسن کی شادی بھی ر وایتی شادیوں کی طرح طے پائی لیکن اس کی شادی میں دولہانہیں تھااور ایریکا انڈریسن نےاس موقع پربروکلین بریج پراپنے ساتھیوں کے ہمراہ شادی کی تصویریں بھی بنوائیں ۔واضح رہے کہ اپنے آپ سے شادی یعنی سولوگمی کاآئیڈیاایک امریکی ٹی وی سیکس اینڈسٹی نے متعارف کرایاتھااوراب یہ طریقہ مغربی دنیامیں مزید پھیل رہاہے اوراب ایسے ادارے اوردیگرویب سائیٹس بھی ایسی شادیوں کے انعقاد کےلئے میدان میں آگئے ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنے ساتھ آپ شادی کررہے ہیں اوریہ ادارے ان شادیوں کااہتمام کررہے ہیں ۔امریکہ ،برطانیہ اوردیگریورپی ممالک میں کئی لوگ ایسی شادیاں کرچکے ہیں اوریہ شادیاں روزبروزعام ہورہی ہیں ،ایسی شادیاں کرنے والوں کاکہناہے کہ دوسری شادیوں کی طرح ہماری بھی یہ شادی ہوتی ہے اورہم اس موقع پرخوش ہوتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…