جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف ابھی طویل سفر طے کرنا ہے ، امریکہ

datetime 24  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف مکمل عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کرنے میں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ افغانستان، پاکستان کے معاملات پر امریکہ کی نائب نمائندہ لوریل ملر نے بر طا نو ی نشریا تی ادارے سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا ہے کہ افغان طالبان کےساتھ مذاکرات کی کوششوں میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس میں مسلسل دباو¿ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں کافی وقت لگے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے لیکن کچھ معاملات پر خاص طور پر حقّانی نیٹ ورک کے بارے میں سوالیہ نشان برقرار ہیں۔ان کا کہنا تھا: ’حقانی نیٹ ورک کا معاملہ ہم اب بھی پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھا رہے ہیں کیونکہ ہمیں اس پر خاصی تشویش ہے۔ حقانی نیٹ ورک امریکہ اور افغانستان دونوں ہی کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ’پاکستان کی زمین سے ہر قسم کی شدت پسندی کو اکھاڑ پھینکنا پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت بھی اس بات کو قبول کرے گی کہ انہیں ابھی اس معاملے پر بہت کام کرنا ہے۔‘لوریل ملر کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں بھی امریکہ صدر غنی کے ساتھ ہے لیکن اگر کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو اس میں تین شرائط اہم ہوں گی۔پہلی کہ طالبان بین الاقوامی دہشت گردی سے اپنا ناطہ توڑ لیں، دوئم وہ افغانستان میں تشدد پھیلانا بند کر دیں اور تیسری یہ کہ افغانستان کے آئین میں خواتین اور اقلیت کے حقوق کے لیے جو قانون بنے ہیں ان پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو بات چیت کے لیے راضی کرنے کی کوششوں میں چین کی پہل کا بھی امریکہ مکمل طور سے ساتھ دے رہا ہے اور بھارت بھی افغانستان کے استحکام کے لیے ہونے والی ہر کوشش کے حق میں ہے۔اس دورے پر صدر غنی کی کوشش ہوگی کہ وہ اوباما انتظامیہ کو افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کی حد کو آگے بڑھانے کے لیے راضی کر سکیں۔اس معاملے پر بات چیت جاری ہے لیکن لوریل ملر کا کہنا ہے کہ اس پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور ممکن ہے کہ اگلے ایک دو دنوں میں اس پر کوئی اہم اعلان ہو جائے۔ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ ابھی افغانستان کو مدد جاری رکھنے پر یہاں ایک رائے ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں میں امداد میں کمی ہوئی ہے اور جیسے جیسے افغانستان کی معیشت اپنے پاو¿ں پر کھڑی ہوتی ہے، اس میں مستقبل میں بتدریج کٹوتی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…