بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نیوز لیکس معاملے میں وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیاں اصل میں کیا ہوا؟اعتزاز احسن نے سنگین دعویٰ کردیا

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سینٹ میں اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن نے نیوز لیکس کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان معاملہ طے کرنے پر دونوں سے پارلیمنٹ میں وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کردیا‘ ایسا ہونا تھا تو سات ماہ سے سلامتی کی رٹ کیوں لگائی گئی۔دس دن کے بعد نیا نوٹیفکیشن آیا اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کیا پیرا 18تبدیل ہوگیا ہے۔

جمعہ کو نیوز لیکس کی رپورٹ شائع نہ ہونے سے متعلق بحث کے حوالے سے اپنے خطاب میں اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ فوج نے سول حکومت کے سامنے سر جھکایا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر ٹوئٹ پر میں نے ایک گھنٹہ کے اندر بات کی کہ ایک میجر جنرل کو وزیراعظم کا حکم مسترد کرنے کی جرات کیسے ہوئی حکومت کی سات ماہ ٹانگیں کانپتی رہیں اس ایشو پر حکومت نے کمیٹی بنائی ہم نے ا عتراض کیا تھا ہمیں سپریم کورٹ کی بنائی گئی جے آئی ٹی پر بھی اعتراض ہے۔ نیوز لیکس کی کمیٹی کے سربراہ جسٹس عامر رضا خان نے اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں رپورٹ پر دستخط نہ کرنے کی دھمکی دی اس سے عیاں ہوتا ہے کہ اختلاف تھا ٹوئٹ سے اختلاف سامنے آئے۔ دس دن کے بعد نیا نوٹیفکیشن آیا اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کیا پیرا 18تبدیل ہوگیا ہے۔ ڈان لیکس کے مطابق ایک بند کمرہ اجلاس میں سول اور ملٹری قیادت بیٹھی ہوئی ہے اور وہاں ایک سول لیڈڑ نے ملٹری لیڈر کو بتایا کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف کرتے ہیں مگر ان لوگوں کو تحفظ دیا جاتا ہے اگر ایسی گفتگو حقیقت نہیں ہے تو من گھڑت سٹوری انتہائی خطرناک ہے۔ قربانی کے بکرے قربان کئے گئے کسی اور کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جن کو قربانی کا بکرا بنایا گیا وہ اجلاس میں موجود ہی نہیں تھے۔

کشمیر پر آل پارٹیز کانفرنس ہورہی تھی اور ٹی وی میں ٹکرز چل رہے تھے موجودہ گورنر سندھ محمد زبیر نے ایک پروگرام میں اعتراف کیا کہ ہم میڈیا سیل میں بیٹھ کر سب کچھ سن رہے تھے۔ ایک اجلاس کے بارے میں خبر چلی کہ کچھ لوگوں کو ذمہ داریاں تھیں بعد میں مریم نواز شریف نے ٹوئٹ کیا کہ کسی کو ذمہ داری نہیں دی گئی وہ کیسے تردید کرسکتی ہیں جب کہ وہ اجلاس میں موجود نہیں تھیں۔ یہ سکیورٹی کے سنگین مسائل ہیں 29اپریل اور 8مئی کے نوٹیفکیشن میں کیا فرق ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ فوجی قیات ایک ایسی فوج کی قیادت ہے جو ملک کے چپے چپے پر لڑرہی ہے اور قربانیاں دے رہی ہے ہماری بحث کا جواب وزیر داخلہ کو دینا چاہئے۔ وزیر پارلیمانی امور کو ہم نہیں سنیں گے ڈان سب سے محتاط اخبار ہے جس نے خبر دی وہ اس شخص سے بھی طاقتور ہوگا جس پر الزام ہے کہ اس نے خبر نہیں رکوائی تمام ریکارڈ ایوان میں پیش کیا جائے کہا گیا کہ معاملہ حل ہوگیا دونوں فریقوں کے نمائندوں کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم نوز شریف کے درمیان جو طے پایا ہے دونوں پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں دونوں کو پارلیمنٹ میں آکر وضاحت کرنا ہوگی سات ماہ سے پھر آپ نے ملکی سلامتی کی رٹ کیوں لگا رکھی ہے۔ یہاں ایک پارلیمانی وزیر کو ہم جواب نہیں دینے دیں گے میری نظر میں آرمی چیف اور وزیراعظم دونوں اس پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں دونوں پارلیمنٹ سے سپریم نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…