منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

ٹوہ میں نہ لگو

datetime 9  مئی‬‮  2017 |

دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی خوش مزاج لوگ تھے۔ مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا جواب نہیں دیتا، میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں۔ میرے دل میں یہ بات آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے ، شائد اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے۔

یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا ، پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے ، اسلئے اکثر لوگوں کی باتیں سن نہیں پاتا۔ مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا عرصہ بدگمان رہا ! میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا ، وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا۔ میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے، رزق کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے ضائع کردیتا ہے ، اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے۔ یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئیں تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ ‘بھائی یہ دیکھو ، یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں ، الله انہیں کیسے رزق دیتا ہے’ میں ٹھٹھک کر رک گیا ، میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا، وہ تو الله کی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ ندامت سے میرا سر جھک گیا۔ انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں۔ جیسے جمشید بدل کر ‘جم’ بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر ‘ ٹم ‘ رہ جاتا ہے وغیرہ ۔۔ ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھا کہ سب گورے میرے ایک دوست محمد کو ‘مو’ کہہ کر بلا رہے ہیں۔ مجھے شدید تکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کرڈالا ؟ صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہو جائے؟ ۔۔ اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں۔ واپس گھر آگیا۔ کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے، اس بار نہیں رہا گیا۔

میں نے کہا محمد تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل کر ‘مو’ کر دیا ، ایسا نہ کرو ! ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ ‘عظیم بھائی ، میں نے ایسا جان کر کیا ہے، جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں، لہٰذا میں نے اپنا نام ‘مو’ لکھوا دیا تاکہ یہ ‘مو’ کو گالی دیں ،  !

یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ، میں دہل گیا کہ اگر آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا۔ وہ حرکت جسکا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا ، وہ تو حب رسولﷺ کا اعلی نمونہ تھی۔ میں اب جان گیا ہوں، میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے ، میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا ! میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ(سورہ الحجرات ١٢) ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں؛ اور ٹوہ میں نہ لگو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…