بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

جب نہانا کفر سمجھا جاتا تھا

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

یورپ میں نہانا کفر سمجھا جاتا تھا،یورپ کے لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی! روس کے بادشاہ قیصر کی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم کے پاس بھیجے گئے نمائندے نے کہا کہ ” فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے”، اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام” مونٹیاسبام” تھا جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کے لیے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی۔

دوسرطرف خود روسی بھی صفائی پسند نہیں تھے، مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ ” روس کا بادشاہ قیصر پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی کھڑے کھڑے شاہی محل کی دیوار پر پیشاب کرتا ہے ، چھو ٹے اور بڑے پیشاب دونوں کے بعد کوئی استنجا نہیں کرتا، ایسی گندی مخلوق میں نہیں دیکھی”۔ اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی ملکہ” ایزا بیلا” ساری زندگی میں صرف دو بار نہائی،اس نے مسلمانوں کے بنائے ہوئے تمام حماموں کو گرادیا۔ اسپین کے بادشاہ “فلیپ دوم” نے اپنے ملک میں نہانے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی، اس کی بیٹی ایزا بیل دوئم نے قسم کھائی تھی کہ شہروں کا محاصرہ ختم ہونے تک داخلی لباس بھی تبدیل نہیں کرے گی اور محاصرہ ختم ہونے میں تین سال لگے،اسی سبب سے وہ مرگئی۔ یہ ان کی عوام کے نہیں بادشاہوں اور حکمرانوں کے واقعات ہیں جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں،جب ہمارے سیاح کتابیں لکھ رہے تھے،جب ہمارے سائنسدان نظام شمسی پر تحقیق کر رہے تھے ان کے بادشاہ نہانے کو گناہ قرار دے کر لوگوں کو قتل کرتے تھے، پھر ہمیں ان کے بادشاہوں جیسے حکمران ملے توحال دیکھیں!!جب لندن اور پیرس کی آبادیاں 30 اور 40 ہزار تھیں اس وقت اسلامی شہروں کی آبادیاں ایک ایک ملین ہوا کرتی تھیں

،فرنچ پرفیوم بہت مشہور ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پرفیوم لگائے بغیر پیرس میں گھومنا ممکن نہیں تھا۔ریڈ ایڈین یورپیوں سے لڑتے ہوئے گلاب کے پھول اپنی نتھںوں میں ٹھونس دیتے تھے کیوں یورپیوں کی تلوار سے زیادہ ان کی بدبو تیز ہوتی تھی!! فرانسیسی مورخ” دریبار” کہتا ہے کہ :” ہم یورپ والے مسلمانوں کے مقروض ہیں، انہوں نے ہی ہمیں صفائی اور جینے کا ڈھنگ سکھا یا، انہوں نے ہی ہمیں نہانا اور لباس تبدیل کرنا سکھا یا، جب ہم ننگے دھڑنگے ہوتے تھے اس وقت وہ اپنے کپڑوں کو زمرد،یاقوت اور مرجان سے سجاتے تھے،جب یورپی کلیسا نہانے کو کفر قرار دے رہا تھا اس وقت صرف قرطبہ شہر میں 300 عوامی حمام تھے”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…