اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک)ڈان لیکس پر جاری گرما گرمی اگلے دو تین روز میں ٹھنڈی ہو جائے گی،سیاسی و عسکری قیادت کے تعلقات کشیدہ ہونے کا تاثر درست نہیں،وفاقی وزیر داخلہ نے ڈان لیکس پر ترجمان پاک فوج کی ٹویٹ کے بعد بروقت سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان لگنے والے پیچے کو روکا۔مؤقر قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مؤقر قومی اخبار روزنامہ امت کی ایک رپورٹ میں سیکورٹی حلقوں تک رسائی رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈان لیکس کے حوالے سے جاری گرما گرمی اگلے دو تین روز میں ٹھنڈی ہو جائے گی اور پانامہ کیس ملکی سیاست پر غالب آجائے گا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت میں تنائو یاخلیج کا تاثر درست نہیں۔ وزیراعظم ہائوس سے ڈان لیکس رپورٹ پرجاری ہونے والے ایگزیکٹو آرڈر سے پیدا ہونے والی صورتحال سے سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان جو پیچا لگنے جا رہا تھا اسے وفاقی وزیر داخلہ نے بـڑی حد بچا لیا ہے ۔ انہوں نے بروقت پریس کانفرنس کر کے ڈیمج کو کنٹرول کر لیا تھا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی سمیت بعض دیگر اوپزیشن جماعتیں اگلے الیکشن سے پہلے ہر صورت موجودہ حکومت گرانے کی خواہشمند ہیں تاہم مردم شماری ، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف پاک فوج حکومت گرنے کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال سے پہلے سے واقف ہے اور اس کےملک پر پڑنے والے اثرات سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ جانتی ہے کہ ایسی صورتحال افورڈ نہیں کی جا سکتی جس کی وجہ سے ترقیاتی عمل اور غیر ملکی سرمایہ کاری رک جائے جبکہ موجودہ حکومت کی بھی خواہش یہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر نگرانی مقررہ وقت پر ہوں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس منظر نامے میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت گرانے اور ملک میں کسی بڑی تبدیلی کی کوشش اور خواہش پوری ہوتی نـظر نہیں آتی۔



















































