بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سول ملٹری تناؤ ،ڈان لیکس کی رپورٹ پر عملدرآمد،اہم اعلان کردیاگیا

datetime 2  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد ( آئی این پی ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے ڈان لیکس رپورٹ پر من و عن عمل کیا ، وزیر اعظم آفس سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا بلکہ نوٹیفکیشن متعلقہ وزارت سے جاری کیا جاتا ہے ، پاکستان سول و ملٹری تناؤ کا شکار نہیں ہو سکتا ، جمہوریت میں ادارے وزیر اعظم کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔ وہ پیر کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ریکمنڈیشن متعلقہ وزارتوں کو دی ہیں کہ وہ اس پر عمل درآمد کریں ۔ سیکیورٹی سے متعلق معاملات کو میڈیا زیر بحث نہیں لایا جاتا اور نہ ہی لانا چاہیے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے ڈان لیکس کمیشن کی رپورٹ پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا ہے ۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان میں استحکام لائیں اور آئین کی عمل داری کو بھی برقرار رکھیں اس ملک میں ہر اس اقدام کو حکومت روکے گی جس سے ملک میں انتشار پھیلے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم مل کر ڈان لیکس پر ایسا حل نکال لیں گے جس سے قانون کی عمل داری متاثر نہ ہو اور مسائل ختم ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آفس سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا بلکہ متعلقہ وزارت سے جاری کیا جاتا ہے ۔ پاکستان سول ملٹری تناؤ کا شکارنہیں ہو سکتا ۔ جمہوریت میں ادارے وزیر اعظم کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان میں استحکام لائیں اور آئین کی عمل داری کو بھی برقرار رکھیں اس ملک میں ہر اس اقدام کو حکومت روکے گی جس سے ملک میں انتشار پھیلے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم مل کر ڈان لیکس پر ایسا حل نکال لیں گے جس سے قانون کی عمل داری متاثر نہ ہو اور مسائل ختم ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آفس سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا بلکہ متعلقہ وزارت سے جاری کیا جاتا ہے ۔ پاکستان سول ملٹری تناؤ کا شکارنہیں ہو سکتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…