جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مزار شریف فوجی چھاؤنی پر تباہ کن حملہ،امریکی میڈیا کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

واشنگٹن/کابل(آئی این پی)امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مزار شریف میں افغان فوجی چھاؤنی پر حملہ کرنے والے طالبان 2 فورڈ رینج فوجی گاڑیوں پر سوار ہوکر آئے تھے، جن کی تعداد 10 تھی اور ان میں سے ایک زخمی حالت میں نظر آرہا تھا۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان اہلکاروں کے مطابق جب فوجی وردی میں ملبوس طالبان کی دونوں گاڑیوں کو پہلی چیک پوسٹ پر روکا گیا تو انہوں نے جعلی فوجی کارڈ دکھائے۔

امریکی میڈیاکے مطابق اس کے ساتھ ہی پہلی گاڑی میں موجود خود کو زخمی فوجی ظاہر کرنے والے نے انہیں کہا کہ اسے ہنگامی طبی امداد کی ضرورت ہے، جس پر افغان فوجیوں نے بیریئر اٹھالیا۔ اسی طرح وہ دوسری چیک پوسٹ سے بھی گزرگئے، تاہم تیسری چیک پوسٹ پر جب ان سے گنیں حوالے کرنے کیلئے کہا گیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ایک افغان فوجی نے بتایا کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ دونوں گاڑیوں میں موجود وردی میں ملبوس افراد قریبی صوبے فاریاب میں آپریشن کرکے لوٹ رہے ہیں اور ان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہے۔ اگر اسے فوری طبی امداد نہ ملی تو وہ مرسکتا ہے، کیونکہ مذکورہ جعلی فوجی کا چہرہ خون آلود نظر آرہا تھا۔ افغان اہلکار کا کہنا تھا کہ بظاہر زخمی ساتھی کو دیکھ کر ہم نے سکیورٹی پروٹوکول میں نرمی دکھائی، جس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ تیسری چیک پوسٹ پر روکنے کے بعد دو حملہ آوروں نے خود کش دھماکے کردئیے جبکہ دیگر اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ تیسری چیک پوسٹ کے بعد حساس علاقہ شروع ہوتا ہے، جہاں عام فوجیوں کو اسلحہ لیجانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لئے وہاں اہلکار غیر مسلح تھے، جو آسانی سے طالبان کا شکار بنتے گئے۔ایک زخمی افغان فوجی افسر ذبیح اللہ کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کون کس سے لڑرہا ہے، کیونکہ حملہ آور بھی فوجی وردی پہنے ہوئے تھے۔

افغان فوجی نے مزید بتایاکہ ہم جیسے ہی مسجد سے باہر آئے، ہم نے ایک تیز رفتار گاڑی اپنی طرف آتے دیکھی، جس میں 4 افراد سوار تھے۔ ہم نے یہی سمجھا کہ یہ افغان فوجی ہیں۔ا سی اثنامیں انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ ذبیح اللہ کا کہنا تھا کہ چھانی کی سکیورٹی بہت سخت ہوتی ہے اور فوجیوں کو بھی شناخت کی سخت چیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ طالبان اندر کیسے داخل ہوگئے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…