اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

سزائے موت پرعملدرآمد عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں، پاکستان

datetime 19  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان نے کہا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے بین الاقوامی وقوانین کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ،پھانسیوں کے حوالے سے عالمی برادری کو اپنا موقف واضح طور پر بتا چکے ہیں ، چینی صدر 23مارچ کو پاکستان نہیں آرہے تاہم دورہ نہ کر نے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں،گرجا گھروں پر حملہ مسیحی برادری پر نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ ہے ،ذکی الرحمن لکھوی کیس میں بھارت کی جانب سے ٹھوس شواہد نہیں دیئے گئے ،الطاف حسین کے حوالے سے وزارت داخلہ سے رجوع کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔تسنیم نے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کی پوزیشن کو سمجھتا ہے،سزائے موت کا جی ایس پی پلس درجے پر اثر نہیں پڑے گا،پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ،پاکستان بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتا ہے،پھانسیوں کے حوالے سے عالمی برادری کو اپنا موقف واضح طور پر بتا چکے ہیں ۔ہمارا آئین و قانونی طریقہ کار سزائے موت کی اجازت دیتا ہے ۔الطاف حسین کے حوالے سے گریز کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے کہا کہ الطاف حسین سے متعلق سوالات وزارت داخلہ سے متعلق ہیں انہی سے بات کی جائے ۔دہشت گرد بلا امتیاز پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،دہشت گردوں کا کسی مذہب ،رنگ و نسل سے کوئی تعلق نہیں ،دہشت گرد پاکستان میں مساجد ،امام بارگاہوں ،گرجا گھروں اور بازاروں کو نشانہ بنارہے ہیں ،گرجا گھروں پر ہونے والا حملہ مسحی برادری پر نہیں بلکہ پاکستان پر ہے،دہشت گرد کسی خاص طبقے کے دشمن نہیں بلکہ پاکستان کے دشمن ہیں ۔تسنیم اسلم نے کہا کہ ذکی الرحمن لکھوی کیس میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو ٹھوس شواہد پیش نہیں دیئے گئے ،سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پر کئی بار یاددہانی کرا چکے ہیں لیکن تاحال بھارت کی جانب سے کیس میں پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔تسنیم اسلم نے کہا کہ چینی صدر 23 مارچ کو پاکستان نہیں آرہے اس حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں ،انہوں نے کہا کہ مستقبل میں چین کے صدر پاکستان کا دورہ کریں گے لیکن اس حوالے سے حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا ہے ،سری لنکا کے صدر نے بھی پاکستان کا دورہ کرنا ہے جس کی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغان وفد کا افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق پاکستان کا دورہ ہو چکا ہے ۔مفاہمتی عمل افغانستان اور خطے میں امن کیلئے ضروری ہے ، پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کررہا ہے ،افغانستان اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…