جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے شام کے مسئلے کا حل پیش کردیا

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

قاہرہ (آئی این پی) چین نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے کا واحد حل امن مذاکرات ہیں ،اس مسئلے کو سیاسی انداز میں ہی حل کیا جا سکتا ہے ، شامی مسئلے کا کوئی جلد حل ممکن نہیں تاہم فوجی آپشن بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہے  اور وہ اس مسئلے میں اہم اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار شام کے مسئلے پر چین کے خصوصی ایلچی زی زیاؤ یان نے یہاں چینی اورمصری ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ چین اور مصر کے لئے اہم ہے کہ وہ آپس میں معلومات اور خیالات کا تبادلہ کریں اور ان کے اقدامات کے بارے میں بات چیت کریں جو اس مسئلے کے حل کیلئے ابھی تک کئے گئے ہیں ۔شام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صورتحال کشیدہ رہے گی ، کیونکہ کیمیائی حملے کے دوران کئی شامی شہری مارے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کا موقف یہ ہے کہ ہم کسی بھی ملک ، تنظیم یا افراد کی طرف سے کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آزادانہ ، غیر جانبدارانہ ، پیشہ وارانہ ، تحقیقات چاہتا ہے تاکہ اس کے حقائق سامنے آ سکیں اور انہیں بین الاقوامی قانون اور کنونشن کے مطابق سزادی جا سکے ۔شامی بحران 15مارچ 2011ء کو شروع ہوا اور اس میں اب باہر کی طاقتیں بھی شامل ہو گئی ہیں ، اس جنگ کے نتیجے میں 3لاکھ 10ہزار افراد مارے گئے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں ۔چینی عہدیدارنے کہا کہ چین کا موقف یہ ہے کہ ہم کسی بھی ملک ، تنظیم یا افراد کی طرف سے کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آزادانہ ، غیر جانبدارانہ ، پیشہ وارانہ ، تحقیقات چاہتا ہےتاکہ شام میں امن قائم ہوسکے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…