منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

موسم گرما اور چہرے کی حفاظت

datetime 1  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کوئی بھی ٹوٹکا آزمانے سے پہلے اپنی جلد کو پہچاننا ضروری ہے۔سب سے پہلے اپنے چہرے کو دھوئیے۔ پھر ہاتھ سے ہلکے ہلکے تھپ تھپا کے خشک کیجیے۔ اس کے بعد ایک ٹشو پیپر اپنے چہرے کے مختلف حصوں پر رکھ کر دبائیے۔اگر آپ کی جلد چکنی ہے تو ٹشو پیپر پر روغنی دھبے آجائیں گے۔ اگر ٹشو پیپر چہرے کے کسی حصے پر نہ چپکے اور نہ ہی اس پر چکنے دھبے نظر آئیں تو آپ کی

جلد خشک ہے۔ اگر یہ آپ کی پیشانی، ناک یا ٹھوڑی پر چپک جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جلد نارمل یا ملی جلی ہے۔ تقریباً 70 فیصد خواتین کی جلد نارمل یا ملی جلی ہوتی ہے۔

چکنی جلد:
ایسی جلد دیکھنے میں کسی حد تک چمک دار معلوم ہوتی ہے اور یہ بلیک ہیڈز اور کیل مہاسوں کا اکثر شکار بنتی ہے۔ کبھی کبھی جلد میں کھنچاؤ اور سختی بھی محسوس ہوتی ہے۔

نارمل یا ملی جلی جلد:
ایسی جلد کے مسام درمیانے ہوتے ہیں۔ سطح ہم وار اور ساخت اچھی ہوتی ہے اور یہ صحت مند رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ملی جلی یا نارمل جلد میں دونوں رخسار خشک، جب کہ پیشانی، ناک، ٹھوڑی کا حصہ چکنا ہو سکتا ہے۔

حساس جلد:
حساس جلد کے مسام نہایت باریک ہوتے ہیں۔ یہ جلد اکثر سرخ اور خارش اور الرجی کا شکار رہتی ہے۔ بالخصوص خشک موسم میں حساس جلد کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

خشک جلد:
اس جلد میں کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ خاص طور پر کلینزنگ کرنے کے بعد ایسی جلد پر اکثر باریک جھریاں اور سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں۔ سورج کی شعاعوں سے جلد متاثرہوجاتی ہے اور سخت محسوس ہوتی ہے۔
چہرے کو دھونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے نیم گرم پانی سے دھوئیں۔ اس سے نہ صرف چہرے پر موجود گرد و غبار صاف ہوتا ہے، بلکہ چکناہٹ بھی دھل جاتی ہے اور بند مسام بھی کھل جاتے ہیں۔ اس کے بعد سادے پانی سے چہرہ دھوئیں۔ ضرورت محسوس کریں، تو پھر کسی اچھے کلینزر کا استعمال کریں۔ دن میں دو بار کلینزر کرنا کافی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…