جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کے قرضوں میں خطرناک ترین اضافہ،آئی ایم ایف نے انتباہ کردیا

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) رواں مالی سال پاکستان میں حکومتی قرضوں کا حجم اکیس ہزار چار سو سترہ ارب تک پہنچ جائیگا، مہنگائی کی شرح چار اعشاریہ دو فیصد اور بے روزگاری چھ فیصد رہے گی۔آئی ایم ایف کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معیشت 5 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد رہے گی جبکہ بے روزگاری کی شرح 6 فیصد ہو گی، ملکی برآمداد میں 3.3

فیصد کمی ہو گی اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 2.9 فیصد ہوگا۔اس دوران حکومت کے قرضوں کا حجم 21 ہزار417 ارب تک پہنچ جائیگا۔آئی ایم ایف کے مطابق حکومتی قرضے جی ڈی پی کے 65 فیصد تک پہنچ جائیں گے ، سرکار کی آمدنی 4 ہزار 966ارب روپے جبکہ اخراجات 6 ہزار 370 ارب روپے ہونگے، آئندہ مالی سال کے دوران معیشت کی شرح نمو 5.2فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومتی قرضوں کا حجم اگلے مالی سال میں 23 ہزار 244 ارب تک پہنچ جائیگا،نئے مالی سال کے دوران کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3 فیصد ہو گا،جبکہ بے روزگاری کی شرح 6 فیصد ہی رہے گی۔یاد رہے کہ عالمی بینک کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی سال 2018 اور19 میں معاشی شرح نمو بڑھ کر ساڑھے پانچ اور پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تک ہوجائے گی، پاک چین اقتصادری راہدای معاشی ترقی میں اضافے کا باعث بنے گی، منصوبے سے تعمیرات اور صنعتی شعبے مزید ترقی کرے گا۔بینک کا کہنا تھا کہ غربت میں کمی اور مستحکم معاشی ترقی کیلئے دور رس پالیساں، نجی سیکٹر کی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ ضروری ہے۔دریں اثناء رواں سال بجٹ کی تیاری پر آئندہ سال آنے والے انتخابات اثرانداز ہوں گے، آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ خسارہ شرح نمو کے تناسب سے چارفیصدتک رکھے جانے کا امکان ہے۔

حکومت اس سال بھی ٹیکس وصولی کے اہداف مکمل نہیں کرپائی اور اوپر سے پاناماکیس کا دبا بھی موجود ہے اوران حالات میں آئندہ سال انتخابات کا سال ہے۔ عوام کی ضروریات پوری کرکے انہیں خوش کرنے کے لئے حکومت کو پیسے چاہیے لیکن نیاٹیکس لگاتے ہیں تو ووٹ بنک متاثرہوگا لہذابجٹ خسارہ بڑھا دینے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔حکومت اگر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو اس کا ازالہ قرض سے جاتا ہے جس کے سبب بجٹ خسارہ بڑھتاہے جس کے نتائج عوام کو بھگتنا ہوں گے

۔معاشی ماہرین کے مطابق آئندہ مالی سال 2017- 2018 میں بجٹ خسارہ چودہ کھرب چالیس ارب روپے تک پہنچنیکاخدشہ ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ خسارہ مزید مقامی اور بیرونی قرضے لیکرپوراکرناپڑیگا۔عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال بھی حکومت ٹیکس آمدنی کاہدف حاصل نہ کرسکی ٹیکس وصولیوں میں ایک کھرب ساٹھ ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے جبکہ خدشہ ہے کہ رواں مالی سال بجٹ خسارہ پندرہ کھرب تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…