جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب سے 70روزبعد 10لاکھ غیرملکی نکل جائیں گے

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے غیرملکی شہریوں جوکہ غیرقانونی طور پرمقیم تھے ان کوواپسی کےلئے 90روزکی ڈیڈلائن جاری کی تھی جبکہ اب اس ڈیڈلائن میں صرف 70دن باقی ہیں ۔عرب نیوزکے مطابق سعودی حکام کااس بارے میں کہناہے کہ ڈیڈلائن ختم ہونے پرتقریبا10لاکھ غیرملکی سعودی عرب سے نکل جائیں گے۔حکام کے مطابق سعودی خصوصی سکیم کے تحت غیر قانونی طور پر مملکت میں موجود

غیرملکی افراد کو بغیر کسی جرمانے یا سزا کے اپنے وطن واپس جانے کی اجازت ہے۔ ان کے فنگر پرنٹ بھی لئے جارہے ہیں تاکہ اگریہ اگردوبارہ سعودی عرب میں داخل ہوں توان کی آمد کے بارے میں معلوم ہوسکے ۔سعودی عرب کی طر ف سے یہ سکیم چارسال قبل تیارکی گئی تھی جس کےتحت اب تک 55لاکھ غیرملکیوں کوسعودی عرب سے نکالاجاچکاہے جوکہ غیرقانونی طورپرمقیم تھے ۔سعودی عرب کا
محکمہ پاسپورٹ کی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹرپر اردو، انگریزی، انڈونیشیائی اور دیگر غیرملکی زبانوں میں غیر ملکیوں کو مسلسل اطلاع دی جارہی ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے دی گئی مہلت کافائد ہ اٹھائیں ورنہ سزاکے ساتھ جرمانہ بھی ہوگا۔سعودی عرب میں معاشی ریفارمزکرنے کرنے والے ماہرین کاکہناہے کہ ان لاکھوں غیرملکیوں کے جانے سے ایک طرف توقومی خزانے پربوجھ کم ہوگاجبکہ دوسری طرف سعودی شہریوں کوروزگارکے نئے مواقع ملیں گے اورمعاشی خسارے کم کرنے میں مددملے گی۔سعودی عرب میں اس وقت غیرملکیوں کےلئے 80 مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔واضح رہے کہ سعودی حکومت ان دنوں معاشی خسارے کاشکارہے جس کی وجہ سے معاشی اصلاحات کی جارہی ہیں ،ماہرین نے تجویزدی تھی کہ غیرملکیوں کی وجہ سے بھی معیشت پربوجھ ہے جس کی وجہ سے خسارہ بڑھ رہاہے ۔سعودی عرب کے معاشی خسارے کی ایک وجہ عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں ریکارڈکمی بھی بتائی جارہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…