اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

پھانسی کے منتظر شفقت کی والدہ نے رحم کی اپیل کر دی

datetime 18  مارچ‬‮  2015 |

مظفرآباد (نیوز ڈیسک)کراچی میں پھانسی کی سزا پانے والے شفقت کے خاندان نے حکومت پاکستان ،صدر و اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو پھانسی کے پھندے سے بچایا جائے۔ شفقت کی والدہ مکھنی بیگم ، بہن سمیرا بی بی و دیگر نے پریس کانفرنس کے دوران زار وقطار روتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے، جس مقدمے میں اسے ملوث کیا گیا اس میں تین گرفتاریاں ہوئیں یہ لاوارث تھا سارا الزام اس پر لگا دیا گیا جبکہ دو کو رہا کر دیا گیا۔مکھنی بیگم نے مزید کہا کہ میرے بیٹے کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں تھا جس کی وجہ سے اسے سزا دلوائی گئی ، سزا کے وقت وہ نابالغ تھا اور قانون کے مطابق نابالغ کو سزا ئے موت نہیں دی جا سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میرے بیٹے کو پھانسی دی گئی تو یہ ظلم عظیم ہو گا ، انسانی حقوق کی تنظیمیں و دیگر ادارے میرے بیٹے کو بچانے کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کریں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں سزائے موت کے منتظر شفقت حسین کی پھانسی کے حوالے سے اظہارخیال کیا تھا۔چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کے کیس کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی اس معاملے پر سیاست کی جانی چاہیے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ جیل ڈاکٹر کے مطابق شفقت حسین کی عمر25 سال ہے اور کسی بھی مرحلے پر شفقت حسین کی کم عمری کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔انھوں نے بتایا کہ شفقت حسین کوقانون کے مطابق 19مارچ کوپھانسی دی جائے گی۔وزیر داخلہ کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران کسی بھی موقع پر شفقت کی عمر کے حوالے سے نقطہ نہیں اٹھایا گیا تھا مگر تمام عدالتوں سے سزاء اور اس کے بعد صدارتی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اس حوالے سے بات شروع کی گئی۔
واضح رہے کہ شفقت حسین نے2001 میں 5 سالہ عمیرکوقتل کیا تھا، جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے اسے 2004 میں اس وقت پھانسی کی سزا سنائی گئی، جب اس کی عمر 14 برس تھی۔
شفقت کی رحم کی اپیلیں 2006 میں ہائی کورٹ، 2007 میں سپریم کورٹ جبکہ 2012 میں صدر مملکت کی جانب سے مسترد کی جا چکی ہیں اور اسے 19 مارچ کو تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…