ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

پھانسی کے منتظر شفقت کی والدہ نے رحم کی اپیل کر دی

datetime 18  مارچ‬‮  2015 |

مظفرآباد (نیوز ڈیسک)کراچی میں پھانسی کی سزا پانے والے شفقت کے خاندان نے حکومت پاکستان ،صدر و اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو پھانسی کے پھندے سے بچایا جائے۔ شفقت کی والدہ مکھنی بیگم ، بہن سمیرا بی بی و دیگر نے پریس کانفرنس کے دوران زار وقطار روتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے، جس مقدمے میں اسے ملوث کیا گیا اس میں تین گرفتاریاں ہوئیں یہ لاوارث تھا سارا الزام اس پر لگا دیا گیا جبکہ دو کو رہا کر دیا گیا۔مکھنی بیگم نے مزید کہا کہ میرے بیٹے کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں تھا جس کی وجہ سے اسے سزا دلوائی گئی ، سزا کے وقت وہ نابالغ تھا اور قانون کے مطابق نابالغ کو سزا ئے موت نہیں دی جا سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میرے بیٹے کو پھانسی دی گئی تو یہ ظلم عظیم ہو گا ، انسانی حقوق کی تنظیمیں و دیگر ادارے میرے بیٹے کو بچانے کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کریں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں سزائے موت کے منتظر شفقت حسین کی پھانسی کے حوالے سے اظہارخیال کیا تھا۔چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کے کیس کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی اس معاملے پر سیاست کی جانی چاہیے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ جیل ڈاکٹر کے مطابق شفقت حسین کی عمر25 سال ہے اور کسی بھی مرحلے پر شفقت حسین کی کم عمری کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔انھوں نے بتایا کہ شفقت حسین کوقانون کے مطابق 19مارچ کوپھانسی دی جائے گی۔وزیر داخلہ کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران کسی بھی موقع پر شفقت کی عمر کے حوالے سے نقطہ نہیں اٹھایا گیا تھا مگر تمام عدالتوں سے سزاء اور اس کے بعد صدارتی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اس حوالے سے بات شروع کی گئی۔
واضح رہے کہ شفقت حسین نے2001 میں 5 سالہ عمیرکوقتل کیا تھا، جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے اسے 2004 میں اس وقت پھانسی کی سزا سنائی گئی، جب اس کی عمر 14 برس تھی۔
شفقت کی رحم کی اپیلیں 2006 میں ہائی کورٹ، 2007 میں سپریم کورٹ جبکہ 2012 میں صدر مملکت کی جانب سے مسترد کی جا چکی ہیں اور اسے 19 مارچ کو تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…