جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شام پرمیزائل حملہ ایران کیلئے سبق ؟امریکہ کیا کرنیوالا ہے؟ سی آئی اے کے سربراہ نے کھلبلی مچادی

datetime 15  اپریل‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی)امریکا کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ شام کے شہر حمص میں گذشتہ ہفتے الشعیرات فوجی اڈے پر کئے گئے میزائل حملے ایران کے لیے سبق ہیں، ایرانی حکومت کو ان حملوں سے ادراک کرنا چاہیے کہ موجودہ امریکی حکومت ماضی کی حکومتوں کے برعکس تہران کے حوالے سے ایک نئی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سی آئی اے چیف مائیک پومپیو نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پرطے پائے معاہدے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اس ضمن میں جوہری سمجھوتے پر ایران کی طرف سے عمل درآمد بارے کوئی بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ بہتر ہے کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے تہران کے جوہری پروگرام بارے ایک رپورٹ پیش کروں اور وہ خود ہی کوئی فیصلہ کریں۔نیویارک میں انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز سینٹر سے میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام بارے معلومات فراہم کررہے ہیں۔ جب ہم اس بات پر مطمئن ہوں گے کہ صدر کے پاس جوہری معاہدے کے بارے میں کافی معلومات پہنچ چکی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایران کہاں تک اس معاہدے کی پابندی اور کہاں تک اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جولائی 2015 کو ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم افزودگی کی مقدار کم کرنے سے اتفاق کیا تھا جس کے بدلے میں عالمی سطح پر ایران پر عاید اقتصادی پابندیاں بہ تدریج کم کرنے کا اعلان کیا گیا۔مائیک پومپیو نے کہا کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد ہمیں ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے پربھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ہمیں ایران کے یورینیم افزودگی کے اعلانیہ اور خفیہ مراکز کا علم ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کی کس حد تک اجازت حاصل ہے۔مائیک پومپیو نے کہا کہ بشارالاسد نے اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے سنگین جرم کیا اور کیمیائی اسلحے کے استعمال کے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔

کیمیائی حملے کے جواب میں شام میں امریکی میزائل حملہ ایک درست اقدام تھا۔ یہ اقدام ایران کے لیے بھی سبق ہے۔ ایرانی حکومت کو ادراک کرنا چاہیے کہ موجودہ امریکی حکومت ماضی کی حکومتوں کی نسبت مختلف پالیسی پرعمل پیرا ہے۔مسٹر پومپیو نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ، عراق اور یمنی عسکری گروپوں کے ذریعے عرب خطے میں ایرانی اثرو نفوذ بڑھانے کی ایرانی پالیسی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ایران کی معاندانہ سرگرمیاں جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لیے کسی کارروائی کی ضرورت پڑی تو خلیجی اور یورپی ممالک امریکا کے ساتھ تعاون کریں گے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…