محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرا چھوٹا بیٹا سیف اللہ میرے ساتھ تھا، ایک جگہ ہم نے ایک بھینس گزرتے دیکھی، میں نے بچے سے پوچھا: بیٹا! عقل بڑی کہ بھینس؟ کہنے لگا: ابو جی! بھینس، میں نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگا: عقل اتنی چھوٹی سی ہے اور بھینس اتنی بڑی ہے، اس لیے بھینس بڑی ہوتی ہے،
میں نے پوچھا: بھینس کے گلے میں پٹہ کون ڈالتا ہے؟ اس نے کہا: انسان، پوچھا کیوں؟ اس نے کہا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل دی ہے، پھر میں نے اسے سمجھایا کہ بھینس انسان کے گلے میں پٹہ نہیں ڈال سکتی، انسان بھینس کے گلے میں پٹہ ڈال کر اسے قابو کر لیتا ہے، اس لیے عقل بھینس سے بڑی ہوتی ہے۔



















































