منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

شہریوں کو فراہم کی جانیوالی سبزیاں کس طرح اُگائی جارہی ہیں؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی میں سمندر میں سیوریج کا آلودہ پانی اور زہریلا مواد گرانے سے پیدا ہونے والے خطرات کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ‘ آلودہ پانی کے رساؤ سے تیزی سے زیر زمین پانی آلودہ ہو رہاہے ‘ مینگرو کے جنگلات کے ختم ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے ‘ آبی ذخائر میں محلول شدہ آکسیجن میں کمی واقع ہو رہی ہے ‘ سی فوڈ پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں ۔ جمعہ کو ایوان میں یہ

رپورٹ وزیر موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے وقفہ سوالات کے دوران پیش کی۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ کراچی کی 2 کروڑ کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ کراچی میں سیوریج کا نظام نا مکمل اور غیر موثر ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 50کروڑ گیلن یومین سیوریج کا پانی پیدا ہو رہاہے اور اسی حالت میں یہ آلودہ پانی لیاری اور ملیر ریورز کے ذریعے سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے۔ زیر زمین پانی آلودہ ہونے کے علاوہ سی فوڈ کی برآمدات پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ مچھلی کی پیداوار کو نقصان ہو رہا ہے۔ غذائی اشیاء آلودہ ہو رہی ہیں کیونکہ اندرون شہر کراچی میں گھریلو اور غیر صاف شدہ گندے پانی کے استعمال کے ذریعے سبزیاں اگائی جا رہی ہیں۔زیر زمین پانی آلودہ ہونے کے علاوہ سی فوڈ کی برآمدات پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ مچھلی کی پیداوار کو نقصان ہو رہا ہے۔ غذائی اشیاء آلودہ ہو رہی ہیں کیونکہ اندرون شہر کراچی میں گھریلو اور غیر صاف شدہ گندے پانی کے استعمال کے ذریعے سبزیاں اگائی جا رہی ہیں۔  ٹریٹمنٹ پلانٹس تک بڑی سیوریج لائنیں بچھانے اور نئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر ‘ موجودہ پلانٹس کی بحالی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے سے گندے پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد سمندر میں چھوڑنے ‘ ساحل سمندر صاف ہونے کے ساتھ ساتھ شہر کے ماحول کے تحفظ اور اسے بہتر بنانے ‘ سمندری ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…