منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھرلاکھوں افغان مہاجرین کوخوشخبری سناکرخیبرپختونخواحکومت کی بھی پیغام دیدیا

datetime 13  اپریل‬‮  2017 |

پشاور (آن لائن)وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں وفاقی حکومت نے پشاور سمیت ملک بھر میں مقیم بیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے اکتیس دسمبر تک مزید مہلت دیدی ہے ۔جس کے بارے میں خیبرپختونخوا حکومت کو باقاعدہ طورپر آگاہ کردیا گیا ہے ۔ خیبر پختونخوامیں رجسٹرڈ اورغیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد سات لاکھ سے زائد ہیں ۔افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کا سلسلہ بھی چار

اپریل سے شروع ہواہے اور رضاکارانہ وطن واپسی کے بعد اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس جا چکے ہیں ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغان مہاجرین کی جانب سے رواں سال کے آخر تک افغان مہاجرین کی وطن واپسی موخر کرنے کی درخواست کی تھی جس پر وزیر اعظم کی منظوری کے بعد باقاعدہ طور پر چاروں صوبائی حکومتوں کو آگاہ کردیا گیا ہے ۔ خیبرپختونخوا حکومت نے غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے لئے بھی وفاقی حکومت سے رابطہ کر چکی ہے ۔ تاہم افغان مہاجرین کی رواں سال کے اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے حوالے سے فاٹا سیکرٹریٹ اور صوبائی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک وزارت سیفران نے انہیں آگاہ نہیں کیاگیا ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاک افغان طورخم بارڈرکو بھی بند کردیاگیاتھا ۔ پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث افغان مہاجرین کے ملوث ہونے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کئے گئے ہیں فاٹا سیکرٹریٹ اور صوبائی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک وزارت سیفران نے انہیں آگاہ نہیں کیاگیا ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاک افغان طورخم بارڈرکو بھی بند کردیاگیاتھا ۔ پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث افغان مہاجرین کے ملوث ہونے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کئے گئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…