جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نیپال میں لاپتہ پاکستانی کرنل کابھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے کیاتعلق تھا؟بھارتی اخبار کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 12  اپریل‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)بھارتی میڈیا نیپال میں لاپتہ ہونیوالے پاک فوج کے سابق لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا تعلق سامنے لے آیا ،بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ لاپتہ ہونیوالے پاکستانی لیفٹیننٹ کرنل حبیب’’را ‘‘ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو پھنسانے والی ٹیم کا حصہ تھے ، حبیب طاہر 2014میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوچکے تھے لیکن ان کی آپریشنل صلاحیتوں کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد

بھی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) نے اپنے ساتھ رکھا۔بھارتی اخبار ’’انڈین ایکسپریس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق نیپال اور بھارت کی سرحد کے قریب لمبینی کے علاقے سے لاپتہ ہونیوالے پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھارت کی حراست میں ہیں کیونکہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے مارچ 2016میں کلبھوشن یادیو کو پکڑا تھا۔ بھارتی سیکیورٹی ذرائع نے اخبار کو بتایاکہ بھارتی ایجنسیاں ایک عرصے سے حبیب ظاہر کے پیچھے لگی ہوئی تھیں ، آخری مرتبہ اسے لمبینی میں دیکھاگیا اور پیر کو پاکستانی فوج کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کے اعلان کاتعلق بھی کرنل حبیب کی گمشدگی سے ہے ، دونوں کیسز کے درمیان تعلق ہے ، پاکستانی حکام کو تاحال ظاہر کا علم نہیں ہوسکا اور اس کا مقصد بڑا واضح ہے ۔ بھارتی افسر نے بتایاکہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی بھارتی ایجنسی بے نقاب ہو،ذرائع کے حوالے سے اخبار نے لکھاکہ 2014میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہونیوالے ظاہر نے 2015میں کلبھوشن یادیواوراس کی فیملی سے رابطے شروع کیے اور اس کا تعاقب کرناشروع کیا۔مذکورہ افسرنے بتایا کہ کلبھوشن کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے ایران میں کاروبار کرتے ہوئے بھارتی پاسپورٹ تھا، پاکستانی ایجنسیوں نے کلبھوشن کو اپنے خاندان سے مراٹھی زبان میں گفتگو کرتے سن لیا تھا جس کے بعد سے حبیب

ظاہر نے کلبھوشن کو ٹریپ کرناشروع کردیا اور بالآخر مارچ 2016میں بھارتی جاسوس پکڑلیا۔ذرائع نے پاکستانی موقف کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ حبیب ظاہر کو نیپال میں نوکری کے عوض بھاری مراعات کا لالچ دے کر بلایاگیا اور اس کیلئے ایک برطانوی فون نمبر کا سہارا لیاگیااور متعلقہ فرد ریٹائرڈ پاکستانی افسر سے عمان میں کئی مرتبہ ملا، 2اپریل کو حبیب ظاہر عمان پہنچا جہاں سے اگلے ہی دن کھٹمنڈو پہنچ گیا، نیپال پہنچتے ہی اسے بھیراوہ میں ایک سم دی گئی اور بتایاگیاکہ یہ سم متعلقہ شخص سے رابطے کیلئے اس کی معاون ہوگی اور پھر اس نے لمبینی کیلئے اپنا سفر شروع کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…