منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں صورتحال خطرناک ہونی لگی ۔۔ شام 4بجے تک گھروں سے باہر مت نکلیں ۔۔ اہم ادارے کا ہنگامی انتباہ جاری

datetime 12  اپریل‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) سندھ اور جنوبی پنجاب کی طرح شہر قائد شدید گرمی کی لپیٹ میں آگئے ٗ پارہ بھی مسلسل بڑھنے لگا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سمندری ہوائیں بند ہونے سے میدانی علاقوں سے آنے والے ہوا کے گرم تھپیڑوں سے مسلسل تیسرے روز درجہ حرارت 40 سے تجاوز کرگیا ٗ شدید گرمی اور کے الیکٹرک کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ۔

محکمہ موسمیات نے کہا کہ شہر کا درجہ حرارت 42 ڈگری سے تجاوز کرسکتا ہے تاہم ہیٹ اسٹروک کا خدشہ نہیں تاہم اس کے باوجود شہری احتیاط برتیں اور شام 4 بجے تک اپنے گھروں یا دفاتر سے باہر نہ نکلیں، باہر نکلنے کی صورت میں اپنے سر کو اچھی طرح ڈھانپ لیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے ہمراہ پانی یا کوئی مشروب بھی رکھیں تاکہ وقفے وقفے سے اس کا استعمال کیا جاسکے۔محکمہ موسمیات کے مطابق دن 12 بجے تک حیدر آباد، رحیم یار خان اور شہید بے نظیر آباد میں 43، موہن جوداڑو، لاڑکانہ اور دادو میں 42، لسبیلہ اور سکھر میں 41، مٹھی 40 جب کہ کراچی میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اوراس میں مزید اضافہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…