جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیار،ترکی نے خطرناک دعویٰ کردیا

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

انقرہ/روم (آئی این پی)ترک وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو نے کہا ہے کہ شامی حکومت کے پاس ابھی تک کیمیائی اسلحہ موجودد ہے،ہماری تحقیقات کا نتیجہ اس بات کا غماز ہے کہ شامی حکومت اب تک کیمیائی جنگ کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اٹلی سے ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے چاویش اوغلو نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ جن کی وجہ سے شام اس کیمیائی صلاحیت

کے استعمال کے قابل نہ رہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ شام میں عبوری حکومت از حد ضروری ہے اور بشار الاسد کی ایوان اقتدار میں موجودگی سے کیمیائی اسلحہ کے خطرے کی تلوار سروں پر منڈلاتی رہے گی۔مولود چاویش اوغلو گذشتہ ہفتے ادلب کے نواحی قصبے خان شیخوں پر بشار الاسد حکومت کے کیمیائی حملے پر ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔ شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے خان شیخون بلدیہ پر بمباری کی جس میں خیال ظاہر کیا جا رہا کہ ان میں کیمیائی تابکاری مواد موجود تھا جس کی زد میں آ کر دسیوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا ترک حکومت ایک ماہ قبل شام میں ہونے والی فائر بندی پر ابھی تک کاربند ہے، تاہم روس کو اس بات پر اصرار سے گریز کرنا چاہئے کہ بشار الاسد کا شامی اقتدار میں رہنا ناگزیر ہے۔اپنے اخباری بیان میں مولود چاویش اوغلو نے مزید کہا کہ میں نے اپنے روسی ہم منصب سے کہا ہے کہ شام میں فائر بندی کی خلاف ورزیاں روکنے کے لئے ماسکو نے ضروری اقدام نہیں اٹھائے۔مولود چاویش اوغلو گذشتہ ہفتے ادلب کے نواحی قصبے خان شیخوں پر بشار الاسد حکومت کے کیمیائی حملے پر ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔ شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے خان شیخون بلدیہ پر بمباری کی جس میں خیال ظاہر کیا جا رہا کہ ان میں کیمیائی تابکاری مواد موجود تھا جس کی زد میں آ کر دسیوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…