جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

آزادکشمیر کے راستے بھارت اور افغانستان کیا کررہے ہیں؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 9  اپریل‬‮  2017 |

مظفرآباد(آئی این پی ) سرینگر مظفرآباد انٹراکشمیر ٹریڈ کی آڑ میں آزادکشمیر کے راستے افغانی تجارت کرنے کے انکشافات جِن میں پاکستانی مصنوعی جڑی بوٹیوں کو بھی بھارت پہنچایا جارہا ہے اسمگلنگ کی آڑ میں آزادکشمیر کے دو ٹرک ڈرائیور بھی بھارتی جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں ، حکومتِ آزادکشمیر چکوٹھی کے مقام سے ہونے والی سرینگر ،مظفرآباد انٹراکشمیر ٹریڈ کو بند کریں ، عوامی حلقوں اور سیاسی و سماجی

تنظیموں کا مطالبہ ، تفصیلات کے مطابق سرینگر ، مظفرآباد انٹرا کشمیر ٹریڈ جو آزادکشمیر کی حدو د ، چکوٹھی لائن آف کنٹرول سے استعمال کی جارہی ہے دراصل اِس ٹریڈ کا مقصد آزادکشمیر کی عوام کو سہولیات پہچانا نہیں بلکہ افغانستان کی ممنوع شاخ بھارت اسمگلنگ کرنے کے علاوہ آزادکشمیر کے مختلف جنگلات سے نکالی جانیو الی نایاب جڑی بوٹیاں تری پترہ ، اور کٹھ جو کہ پاکستان اور آزادکشمیر کی منڈی میں فی کلو 3سے4ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ یہی جڑی بھارت کے مختلف شہروں میں آرام سے 60ہزار سے لے کر 90ہزار روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے جِس کا فائدہ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلروں کو بخوبی ہورہا ہے دوسری جانب افغانستان میں پیدا ہونے والی ہیرؤن ، چرس، گردہ جو کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں اسمگلنگ کو سخت کرنے کی وجہ سے انٹرا کشمیر ٹریڈ کی آڑ میں یہی منشیات ، سرینگر ، مظفرآباد ٹرک سروس کی آڑ میں بھارت اسمگل کی جاتی ہے جِس کی منڈی میں کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسمگلر خود تو کروڑ پتی بن گئے مگر اپنی سازش کو رو پوش کرنے کے لئے آزادکشمیرسے تعلق رکھنے والے ٹرک کے دو ڈرائیور شفیق اعوان ،ا ور سید عنایت حسین شاہ کو بیٹھ چڑھا دیا جو آج بھی بھارت کی مختلف جیلوں میں سز اکاٹ رہے ہیں شفیق اعوان کو ساڑھے 8سال جبکہ سید عنایت حسین شاہ کو 3سال ہونے

کو ہیں جِن کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ٹرک ڈرائیور تھے اوراُس تنخواہ سے اپنے قبیلے کی کفالت کر رہے تھے اُن کو واپسی کے لئے نہ تو حکومت آزادکشمیر نے کوئی دلچسپی لی اور نہ ہی حکومتِ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارت سے مطالبہ کیا جبکہ الٹا آزادکشمیر کی پرامن ریاست کو منشیات اور ممنوع جڑی بوٹیاں اسمگلنگ کرنے کا محفوظ ترین راستہ اختیار کرکے خود کروڑوں روپے کمانے لگے جبکہ اِس سے کشمیریوں کوایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں ہورہا دوسری جانب محکمہ جنگلات کی اعلیٰ افسرانوں کی ملی بھگت سے اربوں روپے کی جڑی بوٹی جو مظفرآباد میں ضبط کی گئی تھی تقریباً2سو ٹن وہ بھی بھارت اسمگل کردی ہے جبکہ ہاتھ کی صفائی اپنے گوداموں میں ناقص جڑی بوٹی کی چند ٹن ثبوت کے طور پر ڈال دی گئی تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کبھی کوئی ایکشن لیں تو اُن کو یہ بتایا جاسکے کہ پکڑی جانے والی جڑی بوٹی محکمہ جنگلات کے پاس محفوظ ہے جبکہ انٹرا کشمیر ٹریڈ کی آڑ میں عرصہ دراز سے اسمگلنگ کا دھندا عروج پر چل رہا ہے متحدہ بار ٹرک ضبط ہوئے ،

پاکستان آرمی نے بھی ضبط کرکے پولیس کے حوالے کئے مگر اُس پر بھی کاروائی کرنے کے بجائے چند دنوں میں ٹرک چھوڑ دیے جاتے ہیں جو کہ سوالیہ نشان ہے؟وزیر اعظم آزادکشمیر اور انسپکٹر جنرل پولیس کو اِس بارے نوٹس لینا چاہئے جبکہ حکومتِ آزادکشمیر انٹرا کشمیر ٹریڈ کو فوری طور پر بند کرکے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کریں ۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…