منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

تین اہم رہنماؤں کی گمشدگی،پیپلزپارٹی نے خطرناک انتباہ کردیا

datetime 9  اپریل‬‮  2017 |

حیدر آباد(آئی این پی)مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہاہے کہ مسلم لیگ (ن) وفاقی جماعت نہیں علاقائی سوچ والی جماعت ہے ‘ وفاق صوبوں کے اعتماد کے بغیر نہیں چل سکے گا ‘ پیپلز پارٹی کے 3 رہنماؤں کو اٹھانا سمجھ سے بالا تر ہے ‘ لوگوں کو اٹھانے کی پالیسی درست نہیں ‘

یہ افراتفری پیدا کر رہی ہے ‘ پانی سے متعلق صورتحال اچھی نہیں ‘ سندھ کے عوام میں بے چینی ہے ‘ روایتی دشمنی جگا کر (ن) لیگ الیکشن میں جا رہی ہے ‘ میاں صاحب پاکستان کے لئے اپنی جان نہ دیں لیکن پاکستان کی جان چھوڑ دیں میرے دوست پرویز رشید میرے خواب میں آکر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میرا کیا ہوا ‘ مجھ سے انصاف نہیں ہوا ۔ اتوار کو حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وفاقی جماعت نہیں علاقائی سوچ والی جماعت ہے۔ وفاق صوبوں کے اعتماد کے بغیر نہیں چل سکے گا۔ آپ دکھاوے کے لئے سندھ آتے ہیں کہاں ہے موٹر وے اور کہاں ہے موٹر وے پولیس ؟۔ آپ تو بس سڑک کو چوڑا کر رہے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی کا عذاب تو 5 سال سے ہے وہ اب کیوں نکلے؟ سندھ میں کئی نوجوانوں کو اغواء کر کے مار دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے 3 رہنماؤں کو اٹھانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ لوگوں کو اٹھانا جرم ہے بند کریں۔ سندھ میں رہنا کیا کوئی جرم ہے۔ میاں صاحب پاکستان کے لئے اپنی جان نہ دیں لیکن پاکستان کی جان چھوڑ دیں۔

لوگوں کو اٹھانے کی پالیسی درست نہیں۔ یہ افراتفری پیدا کر رہی ہے۔ اگر کسی کا بھی جرم ہے تو عدالتوں میں پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پوچھنا چاہتا ہوں چاہتی کیا ہے۔ پارلیمنٹ سے قانون منظور ہو چکا ہے۔ گرفتار افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا ہوگا۔ پانی سے متعلق صورتحال اچھی نہیں ہے۔ سندھ کے عوام میں بے چینی ہے۔ روایتی دشمنی جگا کر (ن) لیگ الیکشن میں جا رہی ہے۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ رات کو میرے دوست پرویز رشید میرے خواب میں آئے وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ چانڈیو صاحب میرا تو پوچھیں میر اکیا ہوا ‘ انصاف تو آپ نے میرے ساتھ نہیں کیا۔ آپ تو میرے دوست ہیں میں نے کہا کہ پرویز بھائی میں آپ کی بات کروں گا ضرور کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…