منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’’کلین چٹ مل گئی ‘‘

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)سیشن جج سائوتھ کی عدالت میں لیاری میں آپریشن کے دوران پولیس پر حملہ کیس کی سماعت ہوئی،سماعت کے دوران عزیر بلوچ اور اسکا بھائی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔استغاثہ لیاری کے گینسٹرعذیر بلوچ اور اس کے بھائی پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا،عدالت نے عذیر بلوچ اور زبیر بلوچ کو ایک مقدمہ سے بری کر دیا اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا ہے

کہ ملزمان کسی اور مقدمہ میں گرفتار نہیں تو انھیں رہا کردیا جائے۔پولیس کے مطابق مئی 2012 میں لیاری میں پولیس آپریشن کیا،پولیس آپریشن کے دوران عزیر بلوچ اور اس کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کیا تھا،عزیر بلوچ کو 2016 میں گرفتار کیا گیا،مقدمہ میں فیصل نیازی،بادشاہ خان،نعیم لاہوتی اور جہانگیر خان شامل ہیں،عدالت نے مفرور ملزمان کے تاحیات وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے،عدالت نے حکم دیا کہ مفرور ملزمان کو گرفتار کرکے جلد پیش کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…