جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

آرمی چیف نے ملاقات کے دوران عمران خان کوکس مسئلے پر پیچھے ہٹنے کا کہا؟

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے سعودی اتحاد میں شامل ہونے پر خدشات ہیں، پارلیمنٹ کی منظوری اور اتفاق رائے کے بعد راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی بطور عسکری سربراہ کمان سنبھالنے پر اعتراض نہیں، تحریک انصاف نے پاکستان کی سعودی اتحاد میں شمولیت کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں جب

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اسلام آباد سے ممبر قومی اسمبلی اسد عمر سے اینکر معید پیرزادہ نےسوال کیا کہ افواہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے عمران خان سے ملاقات میں درخواست کی کہ آپ راحیل شریف کے خلاف سعودی عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے پر جو پوزیشن لے رہے ہیں اس سے دستبردار ہو جائیں اور اس کی مخالفت نہ کریں تو کیا پی ٹی آئی آرمی چیف کی درخواست کے باوجود اس ایشو کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لائے گی تو پی ٹی آئی رہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ راحیل شریف کے سعودی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے حوالے سے تحریک انصاف کی اس مسئلے میں پوزیشن راحیل شریف کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے سعودی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے شدید خدشات ہیں ہم نے اس کی مخالفت کا اٹل فیصلہ ابھی نہیں کیا۔60سال سے غیروں کی جنگ میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان نے بہت خمیازہ بھگتا ہے ہمیں بہت سوچ بچار کرنی ہو گی اس سے پہلے کے ہم جا کر مشرق وسطیٰ کے مسائل میں کودیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی پارلیمان اور سیاسی جماعتوں میں یہ اتفاق رائے پیدا ہو جائے کہ ہم نے سعودی اتحاد کا حصہ بننا ہے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو گی کہ ایک پاکستانی اس کا سربراہ ہو اور راحیل شریف سے بہتر اس کی کمان کرنے والا اورکوئی نہیں ہو سکتا

۔سوال راحیل شریف کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کو اس سعودی اتحاد کا حصہ بننا چاہئے کہ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بتایا جا رہا ہے کہ راحیل شریف سعودی عسکری اتحاد کی کمان کیلئے سعودی عرب جا رہے ہیں جبکہ ہمیں یہ ہی نہیں پتا کہ اس اتحاد کا ایجنڈا اور مقصد کیا ہےجبکہ اس حوالے سے ایک مبہم بیان جاری کر دیا گیا ہے کہ سعودی اتحاد دہشتگردی کے خلاف بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون دہشتگرد ہے یا نہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ اقوام متحدہ کی بنائی گئی دہشتگردوں کی لسٹ کو مان کر اس کے خلاف یہ اتحاد کارروائی کرتا ہے تو کیا ہم اقوام متحدہ کی دہشتگردوں کی بنائی لسٹ سے اتفاق رکھتے ہیں، ان میں سے کتنے افراد ایسے ہیں جن کو ہم دہشتگرد مانتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہئے کہ آیا پاکستان کو سعودی اتحاد کا حصہ بننا چاہئے یا نہیں ۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…