ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

زنا سے بچنے پر مشک کی خوشبو

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

انڈیا میں ایک بزرگ خواجہ مشکیؒ تھے۔ ان کے جسم سے مشک کی سی خوشبو آتی تھی۔ لوگ حیران ہو کر پوچھتے تھے کہ آپ کیسی خوشبو لگاتے ہیں کہ آپ کے کپڑے ہر وقت معطر محسوس ہوتے ہیں، کسی نے ایک مرتبہ بہت مجبور کیا تو وہ فرمانے لگے کہ میں تو کوئی خوشبو نہیں لگاتا۔ اس نے کہا کہ آپ کے کپڑے سے خوشبو کیسی آتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی گلی میں سے گزر رہا تھا۔

ایک مکان کے دروازے پر ایک بوڑھی عورت کھڑی تھی۔ اس نے مجھے دیکھ کرکہا کہ گھر میں کوئی بیمار ہے، تم نیک بندے نظر آتے ہو، اس کو کچھ پڑھ کر پھونک دو۔ ہو سکتا ہے کہ ٹھیک ہو جائے۔ میں نے اس پر اعتماد کیا اور گھر کے اندر چلا گیا۔ جب اندر گیاتو اس نے تالا لگا دیا۔ اس کے بعد گھر کی مالکہ سامنے آئی۔ اس کی نیت میرے بارے میں بری تھی۔ وہ کہنے لگی کہ میں روزانہ تجھے گزرتے ہوئے دیکھتی تھی۔ میرے دل میں برائی کا خیال پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ میں نے آج تجھے اس بوڑھی عورت کے ذریعہ گھر بلایا ہے۔ لہٰذا اب میں گناہ کرنا چاہتی ہوں۔ جب اس نے نیت کا اظہار کیا تو میں بہت پریشان ہوا۔ میں نے اس کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور باہر نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کہنے لگی کہ اب تالا لگ چکا ہے اگر نہیں مانو گے تو میں شور مچائوں گی اور بہتان لگا کرسنگسار کروائوں گی۔ اب دو باتوں میں سے ایک بات کا انتخاب کر لو یا تو سنگسار ہوناپسند کر لو یاپھر میرے ساتھ گناہ کا ارتکاب کر لو۔ اس کی یہ بات سن کر میں بہت پریشان ہوا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں تجویز ڈالی تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے بیت الخلاء میں جانے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا میں فارغ ہو کر تم سے بات کروں گا۔ اس عورت نے سوچا کہ چلو آمادہ تو ہو گیا ہے تاہم اس نے مجھے بیت الخلاء کی جگہ دکھا دی۔ میں وہاں گیا تو مجھے بیت الخلاء میں جو گندگی اور نجاست نظرآئی میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے اپنے جسم پر اور اپنے کپڑوں پر مل لیا۔

جب میں باہر نکلاتو میرے جسم سے سخت بدبو آ رہی تھی۔ چنانچہ جب اس عورت نے مجھے دیکھا تو اس کے دل میں میری نفرت پیدا ہو گئی اور وہ کہنے لگی یہ تو کوئی پاگل ہے۔ نکالو اس کو یہاں سے۔ یوں میں اپنا ایمان بچا کر اس گھر سے نکل آیا۔ اس کے بعد مجھے پریشانی ہوئی کہ میرے بدن اور کپڑوں سے لوگوں کو بدبو آئے گی۔ لہٰذا میں جلدی سے غسل خانہ میں پہنچا اور میں نے اپنے بدن اور کپڑوں کو دھویا اور پاک کیا۔ جب گیلے کپڑے پہن کر باہر نکلاتو اس وقت میرے جسم سے خوشبو آنے لگی۔ اللہ اکبر۔ ان کا اصل نام تو کچھ اور تھا لیکن چونکہ ان کے جسم سے مشک کی خوشبو آتی تھی اس لیے لوگ انہیں خواجہ مشکی کہہ کر پکارتے تھے تو ایک موٹی سی بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ نیکی سے جسم سے خوشبو آتی ہے اور گناہ سے جسم سے بدبو آتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…