منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت نے انتہائی سخت فیصلہ کرلیا،سرکاری ملازمین کے ہوش اُڑ گئے

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی)محکمہ صحت نے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کرنے والے ملازمین کے احتجاج کو غیر قانونی او رحد سے تجاوز قراردیتے ہوئے واضح کیاہے کہ کلرکس کو تین ارب روپے کی لاگت سے ڈبل اپ گریڈیشن دی گئی ۔ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس طبی عملے کے لئے دیاجارہاہے ۔وابستہ دیگر ملازمین کے لئے اسکی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس وضاحت کے ساتھ ہڑتالی ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کاحکم دیاگیا ہے ۔

جس کے لئے ان ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کے ساتھ ساتھ کلاس تھری اورکلاس فورکے ملازمین کی برطرفی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے ۔جن کے متبادل کے طورپر ایمپلائمنٹ ایکسچنج سے بے روزگار درخواست گزاروں کی فہرست طلب کرلی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کے نتیجے میں فوری بھرتی کی جاسکے ۔ محکمہ صحت نے 37 ہڑتالی ملازمین کو نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں ۔چارروز ہڑتال کے بعد جمعرات کے روز محکمہ صحت کی جانب سے تمام اضلاع کے ڈی ایچ اوز اورمیڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو مراسلہ جاری کیا گیاہے جس میں ملازمین کی ہڑتال ختم کرانے اورمذکورہ ملازمین سے سز اکے طورپر تنخواہوں کی کٹوتی کرنے کاحکم دیاگیاہے ۔ اس مراسلے میں کلاس تھری اورکلاس فور کے ملازمین کی ممکنہ مزاحمت سے بچنے کے لئے ایمپلائمنٹ ایکس چینج کے پاس موجود فہرست کے بے روز گار افراد کو تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کے روز محکمہ صحت کے افسران نے ہنگامی فیصلے کیے جس کے لئے ٹیلی فونز اورفیکس مشین کے ذریعے ڈی ایچ اوز کو اطلاع دی گئی لیکن بیشتر اضلاع کے ڈی ایچ اوز نے کاروائی سے معذرت ظاہر کی اورموقف اختیار کیا کہ ان کا تمام عملہ ہڑتال پرہے اس لئے وہ فہرستیں مرتب کرنے سے لاچارہیں جس کے بعد محکمہ صحت کے سیکرٹریٹ میں پشاورسے ہی تمام ہڑتالی ملازمین کی فہرست مرتب کی گئی اور تنخواہوں کی کٹوتی کی سفارش کے ساتھ یہ فہرست اے جی آفس کو ارسال کردی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…