جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کیا سازش رچائی جارہی ہے ؟ مصری مفتی اعظم کا اہم انکشاف

datetime 2  اپریل‬‮  2017 |

قاہرہ(این این آئی)مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے انکشاف کیا ہے کہ مصری دارالافتاء نے ملک میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی ترغیب پر مبنی تین ہزار فتوے جاری کیے جا چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ ’بشری تنوع مشیت ایزدی ہے مگر عقائد کے اختلاف کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان

بقائے باہمی کے اصول پر زور دیتا اور نفرت کو مسترد کرتا ہے۔مصر کے مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ انسان دشمن عناصر مصر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں دست وگریباں کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ مسلمانوں نے فتووحات کے بعد کبھی کسی مخالف مذہب کے مذہبی مراکز کو تباہ نہیں کیا۔ قاہرہ اور الجیزہ میں موجود عیسائیوں کی قدیم عبادت گاہوں کا جوں کا توں رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان فاتحین نے عیسائیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک تازہ تحقیق میں پتا چلا ہے کہ ملک میں عیسائی برادری کے گرجا گھروں پر حملوں کی ترغیب پر مبنی 3 ہزار فتوے موجود ہیں۔ ان میں 90 فی صد فتوے انتہا پسند گروپوں کی طرف سے جاری کردہ ہیں۔خیال رہے کہ مصر میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ سال 2016ء کے دوران مصر میں گرجا گھروں پر متعدد حملے کیے گئے۔ ان میں سب سے خوفناک حملہ قاہرہ کے العباسیہ کے علاقے میں واقعے المرقسیہ کیتھڈرل چرچ میں حملہ ہے جس میں کم سے کم 25 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…