منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

بارہ سال سے قید مجرم سپریم کورٹ کی ہدایت پررہا،کچھ نہیں کیا تو پھر کیوں اتنے سال قید بھگتی؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے بارہ سال قید رہنے والے ملزم کو باعزت بری کر دیا ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جب پراسیکیوشن ناقابل یقین ہو تو ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پرحیرانگی ہوئی ہے ۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے

خلاف ملزم کی درخواست کی سماعت کی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ تفتیش میں کیس کے محرکات ثابت نہیں ہوئے ۔ دو ران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ پراسکیوشن سچ ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔ ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کی کہانی کو ناقابل یقین قرار دیا لیکن نئی کہانی بنائی بھی نہیں اور ملزم کو سزا سنا دی ۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بارہ سال سے قید ملزم مظہر قیوم کو باعزت بری کر دیااس موقع پرجسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ  جب پراسیکیوشن ناقابل یقین ہو تو ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پرحیرانگی ہوئی ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ تفتیش میں کیس کے محرکات ثابت نہیں ہوئے ۔ دو ران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ پراسکیوشن سچ ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔ ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کی کہانی کو ناقابل یقین قرار دیا لیکن نئی کہانی بنائی بھی نہیں اور ملزم کو سزا سنا دی ۔۔یادرہے کہ ملزم مظہرقیوم نے2005 میں فیصل آباد میں غلام عباس نامی شخص کو قتل کیا تھا ۔ ملزم کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت اور معاوضہ ادا کرنے کہ سزا سنائی تھی بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اس کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا اورسپریم کورٹ نے ملزم مظہرقیوم کومقدمے سے بری کردیاہے ۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…