اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

پاکستانیوں کا دل کس قدر بڑ اہوتا ہے ؟

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

ابوظہبی(این این آئی)پاکستانی شہری نے نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد بھارت کے دس نوجوانوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی کی العین عدالت نے موت کی سزا پانے والے دس بھارتی نوجوانوں کی سزا معاف کرنے کے بدلے خوں بہا

جمع کروانے کی منظوری دے دی ۔بھارتی پنجاب سے ابو ظہبی جا کر کام کرنے والے ان لڑکوں کو 2015 میں ایک جھڑپ کے دوران ایک پاکستانی نوجوان کے قتل کا مجرم پایا گیا اور انھیں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔متحدہ عرب امارات میں شریعہ کے مطابق اگر قتل کے مجرم اور مقتول کے خاندان کے درمیان صلح ہو جائے اور اگر متاثرہ خاندان معاف کر دے تو سزائے موت کے خلاف عدالت میں اپیل کی جاسکتی ہے۔پشاور سے تعلق رکھنے والے محمد ریاض نے اپنے بیٹے محمد فرحان کے قاتلوں کو معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔انھوں نے معاہدے کے کاغذات عدالت میں جمع کرائے جس پر مزید کارروائی کے لیے 12 اپریل سنہ 2017 کی تاریخ دی گئی ہے۔محمد ریاض کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے بیٹے کو کھو دیا یہ میری بدقسمتی تھی۔ اگر میں ان لڑکوں کو معاف نہیں کرتا تو کیا ہوتا؟ میں نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے جھگڑے نہ کریں، اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنے ملک اور والدین

کا نام روشن کریں۔نوجوان نسل کو پیغام دیتے ہوئے محمد ریاض نے کہاکہ میں نے ان دس لوگوں کو معاف کر دیا اور ان کی زندگی اللہ نے بچائی ہے، میرا تو صرف نام ہے۔ یہاں آنے والے ہر ایک شخص کے ساتھ دس لوگوں کی زندگیاں جڑ? ہوتی ہیں، ان کے والدین، بیوی اور بچوں کی۔اب بھارت کی ریاست پنجاب

سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کو معافی دی جائے یا نہیں، یہ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے، لیکن ان نوجوانوں کو رہائی کی صورت نظر آنے لگی ہے۔عدالت میں خوں بہا جمع کرانے کا انتظام بھارتی نڑاد ایس پی سنگھ اوبرائے

نے کیا ہے جو کہ دبئی میں کاروبار کرتے ہیں۔اوبراے سربت دا بھلانام کی این جی او کے صدر ہیں جو اس طرح کے معاملات میں گرفتار افراد کی مدد کرتی ہے۔اوبرائے نے صحافی رویندر سنگھ رابن کو بتایاکہ 26 اکتوبر کو جن دس نوجوانوں کو موت کی سزا دی گئی تھی، اس معاملے میں ہم سمجھوتہ کرنے

میں کامیاب ہوئے۔اوبرائے نے بتایاکہ محمد ریاض کو تین دن پہلے پاکستان سے بلایا گیا ہے۔ ہم نے ان کے لیے ویزا اور ٹکٹ اور یہاں رہنے کا انتظام کیا۔ ہم نے کسی طرح محمد ریاض کو منایا اور اب شریعت کورٹ کے قانون کے مطابق ہم نے دو لاکھ درہم خوں بہا رقم عدالت میں جمع کروائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…