پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پاک چین راہداری کے بعد’’بھارتی راہداری‘‘ کا منصوبہ بھی منظر عام پر،حیرت انگیزتفصیلات جاری

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

کٹھمنڈو (آئی این پی ) چین ، نیپال ، بھارت اقتصادی راہداری منصوبہ چین کے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے دائرہ کار کے تحت جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے ، تین ملکوں کی شراکت داری کے تحت اس منصوبے کی تکمیل چین اور پورے جنوبی ایشیاء کے ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور تعاون کو فروغ دینے میں عظیم کردار ادا کرے گا ۔ان خیالات کا اظہار نیپال اور چین کے ماہرین نے یہاں منعقدہ ایک سیمینار میں کیا ۔

سیمینار کا اہتمام کٹھمنڈو کے چائنا سٹڈی سینٹر نے کیا تھا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کٹھمنڈو سکول آف لاء کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر یوبارج سنگرولا نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کے درمیان رابطے کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ ثقافتی طورپر چین اور جنوبی ایشیائی ممالک تاریخ میں ایک طویل عرصہ سے آپس میں تعلق رکھتے ہیں اور تجارت اور مواصلات کے شعبوں میں شاہراہ ریشم نظام جیسا اہم منصوبہ تشکیل دینا چاہتے ہیں ، تجارت اور مواصلات کے شعبوں میں شاہراہ ریشم نظام جیسا اہم منصوبہ تشکیل دینا چاہتے ہیں ، چینی تبت نے اس مقصد کے لئے اپنی شاہراہوں اور ریلوے کا نیٹ ورک بچھا لیا ہے جو چین اور جنوبی ایشیاء کو ملا سکتا ہے ، اس لئے یہ وقت چین، نیپال ، بھارت اقتصادی راہداری منصوبہ کو مکمل کرنے کا اہم وقت ہے تا کہ چین اور جنوبی ایشیائی ممالک میں باہمی فوائد پر مبنی یہ منصوبہ مکمل ہو سکے ۔ سیمینار سے چائنا سٹڈی سینٹر کے قائمقام چیئرمین سندر ناتھ بٹاری اور انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز رینمن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر وانگ یی ووئی اور نیپالی پلاننگ کمیشن کے سابق وائس چیئر مین ڈاکٹر پٹام بر کے علاوہ نیپالی سفارتکار ڈاکٹر شمبراہم سمکھادہ نے بھی خطاب کیا اور اس منصوبے کے فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…