جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی نے حسین حقانی سے متعلق ناقابل یقین چیزوں کا اعتراف کر لیا

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی نے حسین حقانی کو ویزوں کے اجراء کا اختیار دینے کا اعتراف کرلیا،پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے حسین حقانی کو ویزوں کے اجراء کا اختیار دیا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قانونی تقاضے پورے نہ کیئے ہوں،اختیار دینے کا مقصد کسی کو

بائی پاس کرنا نہیں بلکہ ویزا اجراء کے عمل میں تیزی لانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے،معاملے کو اچھالنا ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاس کی جانب سے 2010میں دفتر خارجہ کولکھے گئے خط میں نہ کوئی بات نئی تھی اور نہ ہی غلط تھی۔ یہ خط آج میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے۔ تاہم اس وقت اس خط کی جوگالی سیاسی بنیاد پر ہے اور یہ سیاسی مقاصد کے لئے کی جا رہی ہے۔ اور مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ دنیا بھر میں اہم دارالحکومتوں میں سفارتخانوں میں متعلقہ حکومتی اداروں بشمول سیکورٹی ایجنسیوں کے نمائندے تعینات ہوتے ہیں۔ سفیر کو وزیراعظم نے ویزہ جاری کرنے کا اختیار دیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سفارتخانے کے اندر طریقہ کار جس میں دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو اس طریقہ کار میں شامل نہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سفیر کو یہ اختیار تھا کہ وہ صرف ان لوگوں کو ویزہ جاری

کرے جن کے دورے کا مقصد واضع طور پر بیان کیا گیا تھا اور اس کی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے باقاعدہ سفارش کی تھی۔ مقصد طریقہ کار کو تیز کرنا تھا نہ کہ طریقہ کار کو بائی پاس کرنا تھا۔ اس بات کا بھی اختیار نہیں دیا گیا تھا کہ امریکی اسپیشل فورسز کو ویزہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 2001کے بعد

سے جب اسامہ بن لادن کی تلاش شروع ہوئی ویزہ پالیسیوں اور طریقہ کار پر جامع تحقیقات ہونی چاہئیں اور اسی بات کی ضرورت ہے۔ کچھ افراد یا ایک سیاسی حکومت کو سیاسی مقصد کے لئے ٹارگٹ بنانے سے قوم کے سکیورٹی مفادات آگے نہیں بڑھ سکتےہیں ۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…