منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی نے حسین حقانی سے متعلق ناقابل یقین چیزوں کا اعتراف کر لیا

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی نے حسین حقانی کو ویزوں کے اجراء کا اختیار دینے کا اعتراف کرلیا،پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے حسین حقانی کو ویزوں کے اجراء کا اختیار دیا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قانونی تقاضے پورے نہ کیئے ہوں،اختیار دینے کا مقصد کسی کو

بائی پاس کرنا نہیں بلکہ ویزا اجراء کے عمل میں تیزی لانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے،معاملے کو اچھالنا ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاس کی جانب سے 2010میں دفتر خارجہ کولکھے گئے خط میں نہ کوئی بات نئی تھی اور نہ ہی غلط تھی۔ یہ خط آج میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے۔ تاہم اس وقت اس خط کی جوگالی سیاسی بنیاد پر ہے اور یہ سیاسی مقاصد کے لئے کی جا رہی ہے۔ اور مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ دنیا بھر میں اہم دارالحکومتوں میں سفارتخانوں میں متعلقہ حکومتی اداروں بشمول سیکورٹی ایجنسیوں کے نمائندے تعینات ہوتے ہیں۔ سفیر کو وزیراعظم نے ویزہ جاری کرنے کا اختیار دیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سفارتخانے کے اندر طریقہ کار جس میں دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو اس طریقہ کار میں شامل نہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سفیر کو یہ اختیار تھا کہ وہ صرف ان لوگوں کو ویزہ جاری

کرے جن کے دورے کا مقصد واضع طور پر بیان کیا گیا تھا اور اس کی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے باقاعدہ سفارش کی تھی۔ مقصد طریقہ کار کو تیز کرنا تھا نہ کہ طریقہ کار کو بائی پاس کرنا تھا۔ اس بات کا بھی اختیار نہیں دیا گیا تھا کہ امریکی اسپیشل فورسز کو ویزہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 2001کے بعد

سے جب اسامہ بن لادن کی تلاش شروع ہوئی ویزہ پالیسیوں اور طریقہ کار پر جامع تحقیقات ہونی چاہئیں اور اسی بات کی ضرورت ہے۔ کچھ افراد یا ایک سیاسی حکومت کو سیاسی مقصد کے لئے ٹارگٹ بنانے سے قوم کے سکیورٹی مفادات آگے نہیں بڑھ سکتےہیں ۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…