پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی نے حسین حقانی سے متعلق ناقابل یقین چیزوں کا اعتراف کر لیا

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی نے حسین حقانی کو ویزوں کے اجراء کا اختیار دینے کا اعتراف کرلیا،پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے حسین حقانی کو ویزوں کے اجراء کا اختیار دیا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قانونی تقاضے پورے نہ کیئے ہوں،اختیار دینے کا مقصد کسی کو

بائی پاس کرنا نہیں بلکہ ویزا اجراء کے عمل میں تیزی لانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے،معاملے کو اچھالنا ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاس کی جانب سے 2010میں دفتر خارجہ کولکھے گئے خط میں نہ کوئی بات نئی تھی اور نہ ہی غلط تھی۔ یہ خط آج میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے۔ تاہم اس وقت اس خط کی جوگالی سیاسی بنیاد پر ہے اور یہ سیاسی مقاصد کے لئے کی جا رہی ہے۔ اور مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ دنیا بھر میں اہم دارالحکومتوں میں سفارتخانوں میں متعلقہ حکومتی اداروں بشمول سیکورٹی ایجنسیوں کے نمائندے تعینات ہوتے ہیں۔ سفیر کو وزیراعظم نے ویزہ جاری کرنے کا اختیار دیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سفارتخانے کے اندر طریقہ کار جس میں دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو اس طریقہ کار میں شامل نہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سفیر کو یہ اختیار تھا کہ وہ صرف ان لوگوں کو ویزہ جاری

کرے جن کے دورے کا مقصد واضع طور پر بیان کیا گیا تھا اور اس کی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے باقاعدہ سفارش کی تھی۔ مقصد طریقہ کار کو تیز کرنا تھا نہ کہ طریقہ کار کو بائی پاس کرنا تھا۔ اس بات کا بھی اختیار نہیں دیا گیا تھا کہ امریکی اسپیشل فورسز کو ویزہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 2001کے بعد

سے جب اسامہ بن لادن کی تلاش شروع ہوئی ویزہ پالیسیوں اور طریقہ کار پر جامع تحقیقات ہونی چاہئیں اور اسی بات کی ضرورت ہے۔ کچھ افراد یا ایک سیاسی حکومت کو سیاسی مقصد کے لئے ٹارگٹ بنانے سے قوم کے سکیورٹی مفادات آگے نہیں بڑھ سکتےہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…