پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

حسین حقانی کو ویزے جاری کرنے کا اختیار کس پاکستانی اہم ترین شخصیت نے دیا تھا؟

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی جانب سے کیے گئے دعوے کے 2 دن بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ایک دستاویز سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکا میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو 2010 میں وزارت داخلہ نے امریکیوں کو مطلوبہ دستاویزات کے بغیر سفارتی ویزے جاری کرنے کا

ختیار دیا۔وزیر اعظم کی پرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کئے گئے خط سے پتہ چلتا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی امریکیوں کی جانب سے ویزا حاصل کرنے کے لیے درخواست پاکستان کے متعلقہ افسران کو دینے کے بجائے پاکستانی سفیر کی جانب سے فوری طور پر ایک سال کی مدت کے لیے ویزا جاری کرنے کے اختیارات سے مطمئن تھے۔خط کے مطابق واشنگٹن کے سفارت خانے نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد کی مرضی سے امریکیوں کو ویزا جاری کیے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری خط میں 14 جولائی کی تاریخ درج ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹر عزیز نامی شخص نے غلطی سے تاریخ درج کی۔خیال رہے کہ سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ترجمان پہلے ہی اس بات سے انکار کرچکے ہیں کہ وزارت داخلہ نے اس وقت اس طرح کا کوئی خط جاری کیا تھا۔جاری خط سے پتہ چلتا ہے کہ ’واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر کو پاکستان کا سفر کرنے والے ان امریکی سرکاری سیاحوں کو عارضی ویزا جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جنہیں امریکی حکومت نے تحریری طور پر سفر کرنے کی اجازت دی ہے یا جن کی درخواستیں مکمل ہوں اور ان کی جانب سے واضح طور بتایاگیا ہو کہ وہ پاکستان کا سفر کیوں اور کس مقصد کے لیے کرنا چاہتے ہیں‘۔وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سینیٹ کو بتایا کہ پالیسی

کی تبدیلی کے باعث زیادہ تعداد میں ویزے جاری کیے گئے اور محض 6 ماہ میں 2 ہزار 487 امریکیوں کو سفارتی ویزے جاری ہوئے۔تاہم انہوں نے بہت سارے سوالات کے جواب نہیں دئیے، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پالیسی کو کس نے کب تبدیل کیا تھا، اور نہ ہی انہوں نے یہ ذکر کیا کہ یہ سب کس نے کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…