کوئی تين ماہ پہلے دوست واپس آيا تھا عمان سے پچپن کا روست تھا کافی اچھا وقت گزرا اس کے ساتھ خوب گھومے پھرے۔ ميں نے دوستوں سے کبھی کسی چيز کی فرمائش نہيں کی کيوں کے ميں جانتا ھوں باہر لوگ محنت مزدوری کر کے پيسے کماتے ہيں ليکن اس بار ميں نے مذاق مذاق ميں دوست کو کافی مرتبہ کہہ ديا کہ يار کوئی سيمسنگ کا اچھا سا موبائل ہی بيھج دينا وہ بھی بات کو مذاق ميں اڑا ديتا۔
خير کل صبح بارش تھی عيد بھی مسجد ميں پڑھنی تھی راستہ بارش کی وجہ سے خراب تھا اس لئے سادہ چپل پہن کر ہی چلا گيا کہ گھر آکر چينج کر کے رشتے داروں کو مل آؤں گا عيد کی نماز پڑھی سب کو گلے مل کر عيد مبارک کہا۔ گھر آنے کے لئے مسجد سی نکلا ہی تھا۔ عمان والے دوست کے والد صاحب مل گئے۔ عيد ملے اور ميرا بازو پکڑ ليا اور کہا بيٹا زرا گھر آنا تم سے کام ہے ميں دو دنوں سے تم کو ڈھونڈ رہا ھوں۔ ميں نے پوچھا انکل خيريت؟ کہنے لگے آئو تو سہی۔ خير انکے پيچھے پيچھے چلتا رہا جب گھر کے پاس پہنچے تو ميں باہر ہی کھڑا ہو گيا بيٹھک کا دروازہ کھوليں گے۔ وہ کہنے لگے تمھاری آنٹی کے علاوہ کوئی نہيں ہے گھر ميں ميں انکے ساتھ ہی اندر چلا گيا دوست کی والدہ سے پيار ليا اور عيد مبارک کہا۔ اتنے ميں دوست کے والد صاحب ايک ڈبہ لے آئے اور مجھے دے ديا ميں نے ڈبہ ديکھا اندر سيمسنگ کا موبائل۔ ميری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ ميں نے پوچھا عمران نے بيھجا؟ کہنے لگے ہاں ميں بہت خوش ليکن مجھے ايک بات کی حيرانگی تھی ڈبہ ميں چارجر اور ہينڈ فری نہيں تھی ميں پوچھنے ہی لگا تھا کہ دوست کی والدہ بوليں وے پُت ( بيٹا) نيٹ کی سيٹنگ تو کر دو اس میں اور ايمو شيمو بھی چلا دو۔



















































