کب سے دروازے پر دستک ہو رہی تھی کون ہے۔کوئی آواز ہی نہیں۔پھر دستک ہے دستک جیسے کوئی بالکل نرم سا دروازے پر دستک دے رہا ہو جیسے کہ اس کے ہاتھوں میں جان ہی نہ ہو۔میں نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے ایک کم عمر بچہ جس کی عمر کچھ چھ سے ساتھ سال ہو گی وہ اپنے قد سے بڑا ایک پلاسٹک اپنے کندھے پر لٹکائے ہوئے کھڑا تھا۔بھوک لگی ہے کھانا کھانا ہے۔
اس نے میرے ہاتھ کی ایک انگلی کو پکڑ کر کہا۔میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو قطار میں چل پڑے۔میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اندر لے گیا اس کے ہاتھ دھلائے اور کھانا اس کے سامنے رکھا۔اس نے جیسے ہی کھانا دیکھا تو مجھے کہا یہ نہیں کھاؤں گا۔میں حیران تھا کہ اتنا اچھا سالن بنا ہوا اور وہ کہہ رہا ہے کہ نہیں کھاؤں گا تو میں نے پوچھا کیا کھاؤ گے پھر کہنے لگا پانی اور روٹی دے دو بس۔میرا جسم ساکت تھا زبان تھی کہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن جیسے منہ میں جم چکی ہو۔خیر میں نے اسے کوشش کر کے کھانا کھلایا لیکن وہ آدھا کھانا پانی سے اور آدھا اس سالن سے کھا کر اٹھا اور ساتھ کچھ پیسے دیے اور دروازے تک اسے چھوڑنے گیا۔اس نے جیسے ہی پلاسٹک زمین سے اٹھایا میں حیران رہ گیا کہ پلاسٹک کے نیچے روٹی پڑی تھی اس نے روٹی اٹھائی اور اپنے کندھے پر ایک طرف کو لٹکا کر چلنے لگا تو میں نے پوچھا تمہارے پاس تو کھانا تھا پھر کیوں مانگا۔صاحب! ایک بہن ہے چھوٹی وہ اگلی گلی میں ہے پتہ نہیں اس نے کھایا ہو گا یا نہیں مجھے مل گیا تھا اس لیے میں نے کہا اور ڈھونڈتا ہوں تاکہ اسے بھی کھلا سکوں۔پھر میں نے دیکھا وہ میرے ایک قدم کے برابر اپنے تین قدم رکھتا ہوا میری آنکھوں سے دور ہوتا گیا اور پھر گلی کی نکر پر سے وہ اوجھل تو ہو گیا لیکن آج بھی میری نظروں سے اس کا سایہ اور وہ قدم نہیں جا رہے۔



















































