نیک دل بادشاہ کا لنگر کھلا رہتا اور مخلوق خدا صبح شام آتی اور کھانا تناول کرتی، نئے وزیر خزانہ نے بادشاہ کو مشورہ دیا، سرکار یہ لنگر حکومتی خزانے پر بوجھ ہے اس کو ختم کر دیں،بادشاہ نے وزیر کے کہنے پر لنگر بند کر دیا بادشاہ نے رات کو خواب دیکھا کہ وہ اپنے خزانے کے باہر کھڑا ہے اور مزدور خزانے کی بوریاں کمر پا لاد لاد کر باہر لے جا رہے ہیں
ادشاہ ایک مزدور سے پوچھتا ہے کہ خزانہ کہاں لے کر جا رہے ہو، مزدور نے بتایا اس خزانے کی اب یہاں ضرورت نہیں رہی۔بادشاہ کو یہ خواب مسلسل تین دن آیا، پریشان ہو گیا اور ایک اللہ والے کو بلایا اور پورا قصہ سنایا اللہ والے نے بادشاہ کو نصیحت کی کہ فوراً لنگر کھول دو اس سے پہلے کہ تمہاری بادشاہی چھن جائے اور تم کنگال ہو جاؤ۔بادشاہ نے فوراً لنگر کھول دیا اور مخلوق خدا اپنا پیٹ بھرنے لگی، اسی رات بادشاہ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ خزانے کے دروازے پر کھڑا ہے اور مزدور خزانے کی بوریاں واپس لا رہے ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا اب یہ بوریاں واپس کیوں لا رہے ہو۔ مزدورں نے کہا: ان کی یہاں پھر ضرورت پڑ گئی ہے عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے۔
ہمارا شعور ہمارے دماغ کا ایسا دروازہ ہے ، جس کے ذریعے سے ہم عقل مطلق تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایک غیر ضروری بحث ہمارے کسی بھی قریبی دوست کو ہم سے جدا کر سکتی ہے۔ لارڈ چسٹر فیلڈ
جو شخص اپنی عظمت کا ڈھول بجاتا ہے وہ ڈھول ہی کی طرح اندر سے خالی ہوتا ہے۔
جیسا سوچو گے ویسے بنو گے۔ تمہارے خیالات ہی تمہاری تقدیر ہیں۔ جائس کیری



















































