پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اب بس کردو۔۔۔! شیخ رشید نے شیریں مزاری کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے،حیرت انگیزصورتحال

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد نے قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم پر تقاریر کے باعث رائے شماری میں تاخیر پر ڈاکٹر شیریں مزاری کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے اب تو بس کردو ووٹنگ ہونے دو کے ریمارکس دیئے، ایوان میں آئینی ترمیم پر تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں،نمائندوں کی تقاریر مکمل ہوگئیں تو سپیکر نے بحث سمیٹنے کیلئے فلور وزیرخزانہ سینیٹر

اسحاق ڈار کو دے دیا اس پر ڈاکٹر شیریں مزاری اور نفیسہ شاہ نے ایوان میں شور ڈال دیا کہ انہوں نے بھی تقاریر کرنی ہیں جس پر شیخ رشید نے تحریک انصاف کی رکن کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے اور کہا کہ بس کر دو ووٹنگ ہونے دو۔شیخ رشید نے پارلیمنٹ کے سامنے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ جس ملک کے وزیراعظم کاعدالت میں کیس لگا ہو،وہاں کیا حال ہوگا،پورا معاشرہ کرپٹ ہوچکا ہے،فوجی عدالتوں کو ماضی میں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے سپورٹ کیا اب بھی سب حمایت کر رہے ہیں،23مارچ کو نیا پاکستان بننے جارہا ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ کسی بے گناہ کو نہیں اٹھانا چاہیے،قانون کا درست استعمال بے حد ضروری ہے،یہاں پر کام کیلئے فوج کی ضرورت پڑتی ہے،دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہو یا مردم شماری کرانا ہو،فوجی جوان درکار ہوتے ہیں،دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے فوجی عدالتیں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عام آدمی کو سالمیت تحفظ اور روزگار کا خطرہ لاحق ہے،ایک پریڈ سے مسئلے حل نہیں ہوں گے،جمہوریت کے نام پر سب سے بڑی ڈکٹیٹر شپ پاکستان میں قائم ہے۔انون کا درست استعمال بے حد ضروری ہے،یہاں پر کام کیلئے فوج کی ضرورت پڑتی ہے،دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہو یا مردم شماری کرانا ہو،فوجی جوان درکار ہوتے ہیں،دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے فوجی عدالتیں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان

میں عام آدمی کو سالمیت تحفظ اور روزگار کا خطرہ لاحق ہے،ایک پریڈ سے مسئلے حل نہیں ہوں گے،جمہوریت کے نام پر سب سے بڑی ڈکٹیٹر شپ پاکستان میں قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں فکسنگ کا معاملہ نجم سیٹھی کا گھر کا معاملہ ہے ماموں جانے یا بھانجا ہم تنقید کرنے والے کون ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…