بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

آپریشن اسامہ، حسین حقانی نے زبان کھول دی،پاکستانی عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیاگیا،سنگین دعوے کردیئے

datetime 19  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی)امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ میرا آرٹیکل پاکستان کے تناظر میں نہیں تھا ،پاکستان میں غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن تک امریکی سہولت کاری کا کریڈیٹ لینے کا غلط تاثر لیا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن ویزے سے پاکستان آیا اور نہ ہی اسامہ کو ہلاک کرنے والے امریکی ویزوں سے پاکستان میں داخل ہوئے ، عسکری ناکامی کو سیاسی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش ہورہی

ہے ۔وہ اتوار کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ویزے کی بنیاد پر اسامہ بن لادن پاکستان نہیں آیا تھا ،پاکستانی عوام کو ویزوں کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ،ہر جاسوس بتا کر نہیں آتا کہ میں جاسوس ہوں ،میں نے کسی امریکی کو ویزہ متعلقہ اداروں کے نمائندوں کی تصدیق کے بغیر جاری نہیں کیا تھا ۔حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان میں امدادی پیکج کے دوران سی آئی اے اہلکار آئے ،امدادی پیکج پر عمل درآمد کیلئے امریکیوں کو پاکستان آنے کی ضرورت تھی ۔انہوں نے کہا کہ عسکری ناکامی کو سیاسی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے ،پاکستان میں اہم ایشوز پر کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنا کر معاملہ ادھر ادھر کر دیا جاتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی میں نے نہیں ان لوگوں نے کی جنہوں نے آئی جے آئی بنائی تھی ،جان بوجھ کر کسی پاکستانی نے اداروں کو بائی پاس کر کے امریکیوں کو سہولت کاری فراہم نہیں کی ،دلیل کو جواب دلیل سے دیا جائے اور ذاتی بحث کے بجائے میرے بیانیے پر غور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میرا آرٹیکل پاکستان کے تناظر میں نہیں تھا ،پاکستان میں غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن تک امریکی سہولت کاری کا کریڈیٹ لینے کا غلط تاثر لیا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن ویزے سے پاکستان آیا اور نہ ہی اسامہ کو ہلاک کرنے والے امریکی ویزوں سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے ۔ چندسو سے چند ہزار تک امریکی پاکستان آئے مگر ان میں جاسوس کتنے تھے یہ علم نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…