جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

آپریشن اسامہ، حسین حقانی نے زبان کھول دی،پاکستانی عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیاگیا،سنگین دعوے کردیئے

datetime 19  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی)امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ میرا آرٹیکل پاکستان کے تناظر میں نہیں تھا ،پاکستان میں غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن تک امریکی سہولت کاری کا کریڈیٹ لینے کا غلط تاثر لیا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن ویزے سے پاکستان آیا اور نہ ہی اسامہ کو ہلاک کرنے والے امریکی ویزوں سے پاکستان میں داخل ہوئے ، عسکری ناکامی کو سیاسی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش ہورہی

ہے ۔وہ اتوار کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ویزے کی بنیاد پر اسامہ بن لادن پاکستان نہیں آیا تھا ،پاکستانی عوام کو ویزوں کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ،ہر جاسوس بتا کر نہیں آتا کہ میں جاسوس ہوں ،میں نے کسی امریکی کو ویزہ متعلقہ اداروں کے نمائندوں کی تصدیق کے بغیر جاری نہیں کیا تھا ۔حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان میں امدادی پیکج کے دوران سی آئی اے اہلکار آئے ،امدادی پیکج پر عمل درآمد کیلئے امریکیوں کو پاکستان آنے کی ضرورت تھی ۔انہوں نے کہا کہ عسکری ناکامی کو سیاسی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے ،پاکستان میں اہم ایشوز پر کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنا کر معاملہ ادھر ادھر کر دیا جاتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی میں نے نہیں ان لوگوں نے کی جنہوں نے آئی جے آئی بنائی تھی ،جان بوجھ کر کسی پاکستانی نے اداروں کو بائی پاس کر کے امریکیوں کو سہولت کاری فراہم نہیں کی ،دلیل کو جواب دلیل سے دیا جائے اور ذاتی بحث کے بجائے میرے بیانیے پر غور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میرا آرٹیکل پاکستان کے تناظر میں نہیں تھا ،پاکستان میں غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن تک امریکی سہولت کاری کا کریڈیٹ لینے کا غلط تاثر لیا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن ویزے سے پاکستان آیا اور نہ ہی اسامہ کو ہلاک کرنے والے امریکی ویزوں سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے ۔ چندسو سے چند ہزار تک امریکی پاکستان آئے مگر ان میں جاسوس کتنے تھے یہ علم نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…