جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

امریکی قومی سلامتی کامشیر روس اور ترکی سے کیا کچھ حاصل کرتارہا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 17  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )مریکہ کے مستعفی ہونے والے قومی سلامتی کے مشیر اور فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلن کو روسی کمپنیوں کی طرف سے مبینہ طور تقریبا 68 ہزار ڈالر ادا کیے گئے،اس میں سے45 ہزار 386ڈالر آر ٹی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی بطور فیس ادا کی گئی۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بات حال ہی میں جاری ہونے والی نئی دستایزات میں سامنے آئی ہے کہ مستعفی ہونے والے قومی

سلامتی کے مشیر اور فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلن کو روسی کمپنیوں کی طرف سے مبینہ طور تقریبا 68 ہزار ڈالر ادا کیے گئے اس میں سے ایک بڑا حصہ 45,386 ڈالر کی وہ رقم تھی جو کریملن کی مالی معاونت سے چلنے والے ‘آر ٹی’ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی طرف سے مبینہ طور پر بطور فیس ادا کی گئی تھی۔فلن نے آڑ ٹی کی دسویں سالگرہ کے تقریبات کی تشہیر کرنے کے لیے ماسکو کو دورہ کیا تھا۔اس دورے کے دوران انہوں نے ایک عشائیہ میں بھی شرکت کی تھی جس میں وہ روسی صدر ولادیمر پوٹن کے ساتھ ایک میز پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔اس کے علاوہ فلن کو 11,250 ڈالر کی مزید دو مساوی رقوم بھی ملی تھیں جن میں سے ایک سائبر سکیورٹی سے متعلق ایک روسی کمپنی کی امریکی شاخ جب کہ دوسری روسی فضائی کمپنی ‘ولگا دنپرسے ملی تھی۔فلن کو ٹرمپ کی مہم کے دوران ترکی کی طرف سے لابی کرنے کے لیے 53 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ٹرمپ نے منصب صدارت سنبھالنے سے پہلے فلن کو قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا تاہم جب انہیں مستعفی ہونے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے صرف 24 دن تک اس عہدے پر کام کیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فلن محض ان کے روس اور ترکی سے رابطوں کی وجہ سے ہی مستعفی ہونے کے لیے نہیں کہا گیا تھا، بلکہ انھوں نے امریکہ میں روس کی سفیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے

متعلق نائب صدر مائیک پینس سے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔فلن کو ملنے والی روسی رقوم سے متعلق انکشاف میری لینڈ سے ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن کمنگز نے کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…