پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ہائیکورٹ ملتان کے جج جسٹس قاسم نے روتے ہوئے ایسا کیا کہاکہ عدالت میں موجود ہر شخص درود شریف پڑھنے لگا؟

datetime 14  مارچ‬‮  2017 |

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس محمد قاسم خان نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے خلاف کارروائی کی درخواست پر ایف آئی اے ملتان کو مقدمہ درج کر کے 20 مارچ کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ فاضل جج سماعت کے دوران بار بار آبدیدہ ہوئے اور ریمارکس دئیے کہ توہین رسالت کسی مسلما ن تو کیا کسی پاکستانی کا بھی ایجنڈا نہیں ہوسکتا ۔ اس ملک میں تمام مذاہب کے افراد ایک دوسرے کی

قوت بن کرزندگی گزار رہے ہیں ،سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد غیرملکی مفادات کا کھیل ہے ۔فاضل عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں بعض اداروں کے ذمہ داروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا ، اگر نفرت آمیز رویوں کو آزادی کا نام دیا جاتا ہے تو یہ نہ تو آزادی ہے اورنہ ہی اس کو کلچر کہا جا سکتا ہے ، اس خطے کے رہنے والوں کا کلچر سرکار دو عالمؐ کی تعظیم ہے ۔فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اس نفرت آمیز کارروائی پر فوری ایکشن لیا جائے ، ایکشن نہ لینے والے عناصر غفلت کی ذمہ داری قبول کریں اور ایسے افراد کو ادار ے سزا دیں ۔ فاضل عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ اسلام آباد سے مکمل رپورٹ حاصل کرنے کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس کے بعد بننے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی پیش رفت کی مکمل تفصیلات بھی حاصل کی جائیں اورغفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیاجائے ، عدالت نے حکم دیا کہ ضروری دستاویزات حاصل کرکے مقدمے کا چالان جلد از جلد عدالت بھجوایا جائے ۔ اس موقع پر عدالت میں وکلاء اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور نبی کریمؐ کے ذکر پر عدالت میں بار بار درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی رہیں ۔ یاد رہے کہ فاضل عدالت میں ملتان کے محمد ایوب نے درخواست دائر کی تھی کہ فیس بک پر گستاخانہ مواد کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ، اس لئے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے ساتھ سخت کارروائی عمل میں

لائی جائے ۔ فاضل عدالت کے حکم پر ایک گھنٹہ کے لئے مقدمہ کی سماعت ملتوی کر کے ایف آئی اے حکام کو طلب کیا گیا، جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ممتاز ڈوگر پیش ہوئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…