بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی سازشیں کامیاب،امریکی پارلیمنٹ میں پاکستان کیخلاف بڑا قدم اُٹھالیاگیا،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 11  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن ( این این آئی )امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو دہشتگردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ٹیڈ پو کانگریس میں ایوان نمائندگان میں دہشتگردی سے متعلق ذیلی کمیٹی کے صدر ہیں اور اس سے پہلے بھی وہ پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔بی بی سی کے مطابق اس بل کے تحت صدر کو 90 دنوں کے اندر جواب دینا ہو گا کہ

پاکستان بین الاقوامی دہشتگردی کو سپورٹ کرتا ہے یا نہیں۔ اس کے 30 دن بعد وزیر خارجہ کو ایک رپورٹ دینا ہوگی جس میں انہیںیا تو پاکستان کو دہشتگردی کا کفیل ملک قرار کرنا پڑے گا یا تفصیل سے بتانا ہوگا کہ کیوں اسے اس زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ٹیڈ پو نے بل میں لکھا ہے پاکستان نہ صرف ایک ایسا ساتھی ملک ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس نے برسوں سے امریکہ کے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے اور مدد کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینا ہو یا پھر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو، پاکستان نہ صرف ایک ایسا ساتھی ملک ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس نے برسوں سے امریکہ کے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے اور مدد کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینا ہو یا پھر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کس کے ساتھ ہے اس کے کافی ثبوت ہیں اور یہ واضح ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ نہیں ہے۔بل کے متن کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کو اس دھوکہ دہی کے لیے انعام دینے پر پابندی لگائیں اور اسے سرکاری طور پر دہشتگردی کو سپانسر کرنے والا ملک قرار دیں۔ٹیڈ پو نے ایک ایسا ہی بل گزشتہ سال ستمبر میں پیش کیا تھا لیکن اس کے پاس ہونے کے آثار انتہائی کم تھے کیونکہ یہ اوباما انتظامیہ کا آخری دور میں تھا اور اس پر بحث یا کسی فیصلے کا وقت ہی نہیں بچا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…