پہلا منظر:اماں! میں نادیہ کے گھر جارہی ہوں۔ ہوسکتا ہے آنے میں لیٹ ہوجاؤں۔گھر والوں سے نادیہ کے گھر کا کہہ کر فیصل سے ملنے جانا کوئی پہلی بار نہیں تھا۔دوسرا منظر : اب اور انتظار نہیں ہوتا فیصل۔ کب گھر والوں کو بھیج رہے ہو رشتے کے لیے؟
فیصل نے ایک لمبا قہقہ لگاتے ہوئے کہا:جو لڑکی آج گھر والوں کو جھوٹ بول کر میرے پاس آ سکتی ہے، اپنا سب مجھے سونپ سکتی ہے، کل کو وہ شادی کے بعد مجھ سے جھوٹ بول کر کسی اور سے بھی ملنے جا سکتی ہے۔یوں آجکل کے معاشرے میں عورتیں اپنی مرضی سے اپنا مقام کھو رہی ہیں۔ مرد انہیں ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔یاد رکھیں کہ جو عزت استعمال کر رہا تھا وہ بھی مسلمان تھا۔اگر ! عورت والدین کو دھوکہ دے کر آئی تھی اور رب کی نافرمانی کر رہی تھی تو وہ بھی اپنے رب کے حکم کی دھجیاں اڑا رہا تھا۔ وہ بھی انسان، عورت بھی انسان۔گناہ دونوں کر رہے تھے۔عورت کا مذاق اڑانے والا ذہن میں رکھے کہ جیسا مرد ہو گا ویسی ہی اس کی بیوی ہو گی۔ لہٰذا اس مرد کو بھی استعمال بیوی ہی ملے گی یہ اور بات ہے کہ وہ اس عورت کے بارے میں جانتا نہ ہو۔عورت کے لئے تو اس تحریر میں سبق ہے ہی،لیکن !مرد بھی اگر دیکھے کہ کوئی عورت ایسے گناہ کا ارتکاب کرنے والی ہے تو اس گناہ کا حصہ بننے کی بجائے اس عورت کو روک دے۔پھر کسی عورت کی اپنے گھر والوں کو دھوکہ دینے کی جرأ ت نہیں ہو گی۔مسلمان بن کے سوچیں، مرد یا عورت بن کے نہیں !



















































