ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بڑھاپا یا مجبوری

datetime 10  مارچ‬‮  2017 |

ایک آدمی بہت ہی بوڑھا ہو چکا تھا۔ وہ اپنے بیٹے، بہو اور پوتے کے ساتھ ان کے گھر پر رہتا تھا۔ اب وہ عمر کی اس حد میں پہنچ چکا تھا کہ اس کی بینائی کمزور ہوگئی تھی، اس کے ہاتھ اب کپکپانے لگے تھے اور اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ خاندان کے تمام لوگ رات کو اکٹھے کھانا کھاتے تھے۔ لیکن اب اس بوڑھے آدمی کی کمزور بینائی اور کپکپاتے ہاتھوں کی وجہ سے کھانا کھانا بھی اس کے لئے ایک مشکل کام ہو گیا تھا۔

اکثرچاول کے دانے اس کے چمچ سے پھسل کر زمین پر گر جایا کرتے تھے۔ جب کبھی وہ دودھ یا پانی کا گلاس پکڑتا تو وہ چھلک کر میز پوش پر گر جاتا تھا۔ اس کے بیٹے اور بہو کو یہ گندگی بہت نا گوار گزرتی تھی۔ اس بوڑھے آدمی کے بیٹے نے اپنی بیوی سے کہا کہ اب مجھے بابا کے لئے کچھ کرنا پڑے گا کیونکہ میں کھانے کی میز پر شور اور گندگی سے تنگ آگیا ہوں۔ آخرکار انھوں نے بہت سوچ بچار کے بعد بابا کے لئے ایک الگ چھوٹی میز گھر کے ایک کونے میں ڈال دی۔ اب تمام لوگ اکٹھے میز پر کھانا کھاتے اور بابا اکیلے اس میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ کیونکہ بوڑھے بابا نے بہت سے گلاس اور پلیٹیں توڑ دی تھیں اس لئے اب کھانا انھیں لکڑی کے کٹوروں میں دیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی جب کھانا کھاتے ہوئے اس کے بچوں کی نگاہ اس پر پڑتی، تو وہ بابا کی آنکھ میں آنسو دیکھتے کیونکہ بابا کو اکیلے کھانا پسند نہ تھا۔ لیکن اسکے باوجود ان کو کبھی احساس نہ ہوتا بلکہ جب کبھی کوئی چمچ گرتا تو وہ بڑی ناگواری سے اپنے بابا کو دیکھتے۔ بابا کا چار سالہ پوتا خاموشی سے یہ سب دیکھتا رہتا تھا۔ایک شام کھانے سے پہلے باپ نے دیکھا کہ اس کا چار سالہ بیٹا لکڑی کے کچھ ٹکڑوں سے کھیل رہا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے سے بہت پیار سے پوچھا کی وہ کیا بنا رہا ہے تو بچے نے بہت معصومیت سے جواب دیا کہ میں آپ کے اور امی کے لئے لکڑی کے پیالے بنا رہا ہوں

تاکہ جب میں بڑا ہو جاؤں تو آپ لوگ اس پیالے میں کھانا کھائیں۔ اس بچے نے مسکرا کر یہ سب کہا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ اس بچے کے ان معصوم لفظوں نے اس کے ماں باپ کو حیرت اور شرمندگی میں ڈال دیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کیونکہ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ انھوں نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ انھوں نے منہ سے کچھ نہ کہا کیونکہ وہ جان چکے تھے کی اب انہیں کیا کرنا ہے۔ اس شام بابا کے بیٹے نے بابا کا ہاتھ پکڑا اور انہیں واپس اسی میز پر لے آیا۔اس کے بعد ہر دن بابا نے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور پھر جب بھی کبھی بابا کے ہاتھ سے چمچ گرا یا پانی چھلکا تو انھوں نے ناگواری سے بابا کو نہیں دیکھا بلکہ بہت پیار اور احترام سے ان کی طرف دیکھا۔ بچے بہت حساس ہوتے ہیں وہ جو دیکھتے ہیں اور جو سنتے ہیں، اسی کو صحیح سمجھ کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنے والدین کو دوسروں کے ساتھ نرمی اور عزت سے پیش آتا دیکھتے ہیں تو وہ خود بھی یہی رویہ اپنے بڑوں اور چھوٹوں کے ساتھ اپناتے ہیں۔ اور اگر وہ اپنے والدین کو دوسروں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتا دیکھتے ہیں تو ویسا ہی رویہ ان کا بھی ہوتا ہے۔ سمجھدار والدین یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آج جیسے وہ اپنے بچے کی پرورش کریں گے کل کو اسی پرورش کی جھلک انھیں اپنی اولاد میں نظر آئے گی۔ اس لئے وہ خود بھی اس گناہ سے بچتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی ترغیب دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…