بنی اسرائیل میں ایک بہت بڑا عابد یعنی عبادت گزار شخص تھا۔ اسی علاقے کے تین بھائی ایک بار اس عابد کی خدمت میں حاضرر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ ہمیں سفر درپیش ہے،واپسی تک ہماری جوان بہن کوہم آپ کے پاس چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ عابد نے خوف فتنہ کے سبب معذرت چاہی مگر ان کے پیہم اِصرار پر وہ تیارہو گیا اور کہا کہ میں اپنے ساتھ تو نہیں رکھوں گا کسی قریبی گھر میں اس کو ٹھہرا دیجئے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
عابد کھانا اپنے عبادت خانے کے دروازے کے باہر رکھ دیتا اور وہ اٹھا کر لے جاتی۔ کچھ دن کے بعد شیطان نے عابد دل میں ہمدردی کے انداز میں وسوسہ ڈالا کہ کھانے کے اوقات میں جوان لڑکی اپنے گھرسے نِکل کر آتی ہے کہیں کسی بدکار مرد کے ہتھے نہ چڑھ جائے، بہتر یہ ہے کہ اپنے دروازے کے بجائے اْس کے دروازے کے باہَر کھانا رکھ دیا جائے ، اس اچھی نیت کا کافی ثواب ملے گا۔چنانچہ اس نے اب کھانا اس کے دروازے پر پہنچانا شروع کیا۔ چند روز بعد شیطان نے پھر وسوسے کے ذریعے عابد جذبہ ہمدردی ابھارا کہ بے چاری چپ چاپ اکیلی پڑی رہتی ہے، آخر اس کی وحشت دور کرنے کی اچھی نیت کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیا گناہ ہے! یہ تو کارِ ثواب ہے، یوں بھی تم بہت پرہیز گار آدمی ہو ، نفس پر حاوی ہو ، نیت بھی صاف ہے یہ تمہاری بہن کی جگہ ہے۔چنانچہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جوان لڑکی کی سریلی آواز نے عابد کے کانوں میں رس گھولنا شروع کر دیا، دل میں ہَیجان برپا ہوا، شیطان نے مزید اکسایا یہاں تک کہ’ نہ ہونے کا ہو گیا۔حتیٰ کہ لڑکی نے بچہ بھی جن دیا۔شیطان نے دل میں وسوسو کے ذریعے خوف دلایا کہ اگر لڑکی کے بھائیوں نے بچّہ دیکھ لیا تو بڑی رسوائی ہو گی لہٰذا عزت پیار ی ہے تو نومولود کا گلا کاٹ کر زمین میں گاڑ دے۔
وہ ذہنی طور پر تیار ہو گیا پھر فوراً وسوسہ ڈالا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ لڑکی ہی اپنے بھائیوں کو بتا د ے بس عافیت اِسی میں ہے کہ ‘ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری دونوں ہی کو ذَبح کر ڈال۔ الغرض عابد نے جوان لڑکی اور ننھے بچّے کو بے دَردی کے ساتھ ذبح کر کے اسی مکان میں ایک گڑھا کھود دفن کرکے زمین برابر کردی۔
جب تینوں بھائی سفر سے لوٹ کر عابد کے پاس آئے تو اْس نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا: آپ کی بہن فوت ہو گئی ہے، آئیے اس کی قبر پر فاتحہ پڑھ لیجئے۔ چنانچہ عابد انہیں قبرستان لے گیا اور ایک قبر دکھا کر جھوٹ موٹ کہا:یہ آپ کی مرحومہ بہن کی قبر ہے۔ چنانچہ انہوں نے فاتحہ پڑھی اور رنجیدہ رنجیدہ واپس آ گئے۔
رات شیطان ایک مسافر کی صورت میں تینوں بھائیوں کے خوابوں میں آیا اور اس نے عابد کے تمام سیاہ کارنامے بیان کر دئیے اورتدفین والی جگہ کی نشاندہی بھی کر دی کہ یہاں کھودو۔چنانچہ تینوں اْٹھے اور ایک دوسرے کو اپنا خواب سنایا۔ تینوں نے مل کر خواب میں کی گئی نشاندہی کے مطابِق زمین کھود ی تو واقعی وہاں بہن اور بچّے کی ذبح شدہ لاشیں موجود تھیں۔ وہ تینوں عابد پر چڑھ دوڑے ،
اْس نے اقبالِ جرم کر لیا۔انہوں نے بادشاہ کے دربار میں نالش کر دی۔ عابد کو اس کے عبادت خانے سے گھسیٹ کر نکالا گیا اور سولی دینے کا فیصلہ ہوا۔جب سولی پر چڑھانے کیلئے لایا گیا تو شیطان اس پر ظاہر ہوا اور کہنے لگا: مجھے پہچان! میں تیرا وہی شیطان ہوں جس نے تجھے عورت کے فتنے میں ڈال کر ذلت کی آخری منزل تک پہنچایا ہے،خیر گھبرا مت میں بچا سکتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ تجھے میری اِطاعت کرنی ہو گی۔
مرتا کیا نہ کرتا !عابد نے کہا: میں تیری ہر بات ماننے کیلئے تیار ہوں۔ اْس نے کہا:اللہ کا انکار کر دے اور کافر ہوجا۔ بد نصیب عابد نے کہا: میں خدا کا انکار کرتا ہوں اور کافر ہوتا ہوں۔شیطان ایک دم غائب ہو گیا اور سپاہیوں نے فوراً اس بد نصیب عابد کو تختہ دار پر چڑھا دیا۔



















































